Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 11 | گم شدہ وارث کی واپسی

 

پہاڑوں کی دلہن — قسط 11|گم شدہ وارث کی واپسی

تحریر: Hearts Where Stay|Every Heart Has a Story

پہاڑوں کی دلہن قسط 11 کی تصویر، آذر اور ماہ نور کے سامنے دو بچوں کی شناخت کا راز اور گم شدہ وارث کی پراسرار واپسی
پہاڑوں کی دلہن قسط 11 — گم شدہ وارث کی واپسی۔ حویلی کے تہہ خانے میں چھپا راز، پرانا رجسٹر اور آذر جیسے چہرے والے پراسرار نوجوان کی آمد۔ صرف Hearts Where Stay پر — Every Heart Has a Story.

حویلی کے صحن میں رات کی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ دور پہاڑوں سے آتی ہوا پرانے درختوں کی شاخوں کو ہلا رہی تھی، مگر آذر کے ذہن میں اس وقت صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا:


’’دوسرا بچہ زندہ ہے… اور وہ تمہارے سامنے آنے والا ہے۔‘‘


آذر نے کاغذ اپنی مٹھی میں بھینچ لیا۔


’’ماہ نور، یہ کوئی معمولی مذاق نہیں ہے۔ کسی کو ہماری پیدائش کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے۔ وہ ہمیں سچ کے قریب لا رہا ہے، مگر ہر بار آخری لمحے پر غائب ہو جاتا ہے۔‘‘


ماہ نور نے صحن کے اندھیرے میں نظریں دوڑائیں۔


’’ممکن ہے کریم بخش ہمیں کچھ بتانا چاہتا ہو۔ اس کی آواز ہم نے خود سنی تھی۔ اگر وہ بارہ سال پہلے مر چکا تھا تو آج اس کی آواز یہاں کیسے آئی؟‘‘


آذر نے جواب دینے کے بجائے سکندر شاہ کی طرف دیکھا، جو چند قدم کے فاصلے پر خاموش کھڑا تھا۔


’’تم نے کہا تھا کہ کریم بخش اس راز کے بارے میں جانتا ہے۔ اب مجھے بتاؤ، وہ کہاں ہے؟‘‘


سکندر شاہ نے سر جھکا لیا۔


’’وہ زندہ ہے۔ لیکن اس کی زندگی اتنی آسان نہیں رہی جتنی تم سمجھتے ہو۔ بارہ سال پہلے اس نے ایک ایسے راز کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی قیمت اسے اپنا گھر، اپنی شناخت اور اپنے عزیزوں سے جدائی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔‘‘


’’اور تم نے اسے سب سے چھپا کر کیوں رکھا؟‘‘ آذر نے غصے سے پوچھا۔


’’کیونکہ اگر وہ سامنے آ جاتا تو دوسرے بچے کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔‘‘


ماہ نور نے حیرت سے پوچھا، ’’کیا کوئی اب بھی اس بچے کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے؟‘‘

سکندر شاہ نے فوراً جواب نہ دیا۔ اس نے پہلے حویلی کی اوپری منزل کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے بولا:


’’کچھ لوگ اپنی طاقت بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اور اس خاندان میں ایک شخص ایسا ہے جو نہیں چاہتا کہ دوسرا وارث کبھی اپنے اصل نام سے پہچانا جائے۔‘‘


آذر نے بے صبری سے کہا، ’’بس اب اشارے مت دو۔ مجھے اس شخص کا نام چاہیے۔‘‘


سکندر شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


’’اگر میں نے نام لے لیا تو تم شاید اس شخص کو کبھی معاف نہ کر سکو جسے آج تک اپنا محسن سمجھتے آئے ہو۔‘‘


آذر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ حویلی کے پچھلے دروازے سے ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔


تینوں نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔


ایک بوڑھا شخص دیوار کا سہارا لیتا ہوا صحن میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کے کپڑے گرد آلود تھے، چہرے پر تھکن نمایاں تھی اور ایک ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی تھی۔


اس نے چند قدم چلنے کے بعد آذر کو دیکھا اور وہیں رک گیا۔


’’آذر صاحب…‘‘ اس کی آواز کمزور تھی۔ ’’آخرکار آپ تک پہنچ ہی گیا۔‘‘

آذر آگے بڑھا۔


’’تم کون ہو؟‘‘


بوڑھے شخص نے کانپتے ہاتھ سے اپنی جیب میں سے ایک پرانی تصویر نکالی۔ وہی تصویر جس میں دو نومولود بچے ایک ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔


’’میرا نام کریم بخش ہے۔ میں نے بارہ سال پہلے آپ کو آخری مرتبہ دیکھا تھا، جب آپ کو اس حویلی سے باہر لے جایا جا رہا تھا۔‘‘


آذر کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔


’’مجھے باہر لے جایا جا رہا تھا؟ لیکن میں تو ہمیشہ سے اسی حویلی میں پلا بڑھا ہوں!‘‘


کریم بخش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔


’’آپ کو بہت سی باتیں بتائی گئیں، صاحب، مگر سب سچ نہیں تھا۔ اس رات دو بچے پیدا ہوئے تھے۔ حویلی میں جشن منانے کی تیاریاں تھیں، لیکن صبح ہونے سے پہلے ایک بچے کو اس کے خاندان سے دور کر دیا گیا۔‘‘


ماہ نور نے دھیمی آواز میں پوچھا، ’’کیا وہ بچہ آذر تھا؟‘‘


کریم بخش نے فوراً جواب نہ دیا۔


’’میں اس سوال کا جواب دینے آیا ہوں، مگر اس سے پہلے مجھے ایک امانت واپس کرنی ہے۔‘‘

اس نے اپنی چھڑی کے اندر چھپائی ہوئی ایک چھوٹی سی چابی نکالی اور آذر کی ہتھیلی پر رکھ دی۔


’’یہ چابی زینب بیگم نے مجھے دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب دونوں بچوں کے بارے میں سچ سامنے لانے کا وقت آئے، تو یہ چابی آذر کے حوالے کر دینا۔‘‘


آذر نے چابی کو غور سے دیکھا۔


’’یہ کس چیز کی چابی ہے؟‘‘


’’حویلی کے تہہ خانے میں ایک کمرہ ہے جسے بارہ سال سے بند رکھا گیا ہے۔ اس کمرے میں وہ رجسٹر موجود ہے جس میں دونوں بچوں کے اصل نام درج ہیں۔‘‘


سکندر شاہ نے یہ سنتے ہی کریم بخش کا بازو پکڑ لیا۔


’’تم نے وعدہ کیا تھا کہ اس کمرے کے بارے میں کسی کو نہیں بتاؤ گے!‘‘


کریم بخش نے اپنا بازو چھڑا لیا۔


’’میں نے ایک بچے کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا، جھوٹ کی حفاظت کا نہیں۔ بارہ سال تک میں خاموش رہا۔ اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔‘‘


آذر نے چابی مضبوطی سے پکڑ لی۔


’’مجھے ابھی اس کمرے میں لے چلو۔‘‘


کریم بخش نے سر ہلایا۔


’’ضرور، مگر ایک بات یاد رکھیں۔ وہاں جو نام لکھے ہیں، انہیں پڑھنے کے بعد آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ اپنے خاندان سے انصاف چاہتے ہیں یا انتقام۔ دونوں راستے ایک جیسے نہیں ہیں۔‘‘


ماہ نور نے آذر کا ہاتھ تھام لیا۔


’’میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔ چاہے وہاں جو کچھ بھی سامنے آئے، تم اکیلے نہیں ہو۔‘‘


آذر نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں موجود خوف کچھ کم ہو گیا۔


’’مجھے تمہارا ساتھ چاہیے، ماہ نور۔ کیونکہ اگر میرا پورا ماضی جھوٹ نکلا تو شاید مجھے اپنے مستقبل کا راستہ بھی نئے سرے سے تلاش کرنا پڑے۔‘‘


چاروں افراد حویلی کی پچھلی راہداری سے نیچے اترنے لگے۔ سیڑھیاں تنگ اور تاریک تھیں۔ دیواروں پر نمی کے نشان تھے اور ہوا میں پرانی لکڑی کی بو پھیلی ہوئی تھی۔


آخرکار وہ ایک بھاری دروازے کے سامنے رک گئے۔

کریم بخش نے دروازے پر ہاتھ رکھا۔


’’یہی وہ جگہ ہے جہاں سے سب کچھ شروع ہوا تھا۔‘‘


آذر نے چابی تالے میں ڈالی اور اسے گھمایا۔


دروازہ چرچراتا ہوا کھل گیا۔


اندر ایک پرانی میز، چند بند صندوق اور دیوار کے ساتھ لکڑی کی الماری رکھی تھی۔ آذر نے چراغ بلند کیا تو الماری کے اوپر ایک رجسٹر دکھائی دیا۔


اس نے رجسٹر کھولا۔


پہلے صفحے پر تاریخ درج تھی، اس کے نیچے دو بچوں کے نام لکھے تھے۔


آذر نے پہلا نام پڑھا تو اس کی سانس معمول پر رہی۔


لیکن دوسرے نام پر پہنچتے ہی اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔


دوسرے بچے کا نام تھا: ماہ نور۔


ماہ نور کے قدموں تلے جیسے زمین نکل گئی۔


’’نہیں… یہ نام یہاں کیسے لکھا ہو سکتا ہے؟ میں تو اس خاندان میں پیدا ہوئی تھی۔‘‘


کریم بخش نے آنکھیں بند کر لیں۔


’’بیٹی، تمہیں بھی وہی کہانی سنائی گئی جو آذر کو سنائی گئی تھی۔ تم دونوں کے ماضی میں ایک ایسا رشتہ ہے جسے تم سے چھپایا گیا۔‘‘


ماہ نور نے رجسٹر کے صفحات پلٹے۔ ایک اور کاغذ اس کے سامنے آیا، جس پر زینب بیگم کے دستخط تھے۔


اس کے نیچے لکھا تھا:


’’اگر کبھی دونوں بچوں کی شناخت سامنے آئے تو انہیں یہ مت بتانا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ پہلے انہیں اس شخص سے بچانا جو آج بھی انہیں جدا رکھنا چاہتا ہے۔‘‘


اسی لمحے اوپر سے دروازہ بند ہونے کی زور دار آواز آئی۔


پھر کسی نے تہہ خانے کے باہر سے کنڈی چڑھا دی۔


ماہ نور نے خوف زدہ ہو کر آذر کی طرف دیکھا۔


’’ہم یہاں پھنس گئے ہیں!‘‘


سکندر شاہ نے دروازے کی طرف دوڑ لگائی، مگر باہر سے کوئی جواب نہ آیا۔


اچانک تہہ خانے کی دیوار کے پیچھے سے ایک مانوس آواز سنائی دی۔


’’رجسٹر بند کر دو، آذر۔ تمہیں وہ سچ نہیں جاننا چاہیے جو تمہارے سامنے کھڑا ہے۔‘‘


آذر کا چہرہ سخت ہو گیا۔


’’کون ہو تم؟ سامنے آؤ!‘‘


کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر دیوار کے پیچھے چھپا ہوا دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔


اس کے پیچھے ایک نوجوان کھڑا تھا، جس کا چہرہ آذر سے حیرت انگیز حد تک ملتا تھا۔


اس نے آذر کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:


’’تم نے بہت دیر کر دی، بھائی۔‘‘


جاری ہے…


قسط 12 میں


کیا وہ نوجوان واقعی آذر کا گم شدہ بھائی ہے؟ ماہ نور کا اس راز سے کیا تعلق ہے؟ اور تہہ خانے کا دروازہ بند کرنے والا شخص کون ہے جو دونوں بچوں کو آج بھی ایک دوسرے سے دور رکھنا چاہتا ہے؟

♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے