Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 7 | تہہ خانے کا آخری راز

 

پہاڑوں کی دلہن ❤️

قسط ہفتم — تہہ خانے کا آخری راز

پہاڑوں کی دلہن قسط ہفتم، تہہ خانے کا آخری راز، ماہ نور اور آزر شاہ کے اردو رومانوی سسپنس ناول کا پریمیم کور
پہاڑوں کی دلہن — قسط ہفتم تہہ خانے کا آخری راز
ماہ نور اور آزر شاہ ایک پراسرار تہہ خانے میں ایسے راز سے پردہ اٹھاتے ہیں جو ان کے خاندانوں کی تاریخ بدل سکتا ہے۔ ایک پرانی تصویر، ایک خفیہ خط، حمید شاہ کا خوفناک انکشاف اور اچانک چلنے والی گولی کہانی کو ایک سنسنی خیز موڑ پر لے آتی ہے۔

رات کے بارہ بج چکے تھے۔

شاہ حویلی کے بلند در و دیوار خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے، مگر اس خاموشی کے پیچھے کوئی ایسا طوفان چھپا تھا جو صبح ہونے سے پہلے کئی رشتوں کو بدل دینے والا تھا۔

ماہ نور کے ہاتھ میں وہ پرچی اب بھی موجود تھی۔

“تہہ خانے کا دروازہ کھولنے سے پہلے اپنے محبوب سے پوچھ لینا کہ اس کے ہاتھوں پر تمہارے باپ کا خون کیوں ہے۔”

وہ آزر کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس بار ان آنسوؤں کے پیچھے محبت سے زیادہ سوال تھے۔

“تم نے کہا تھا کہ تم مجھ سے کچھ نہیں چھپاؤ گے، آزر۔ پھر تمہارے والد اور میرے بابا کے درمیان کیا ہوا تھا؟”

آزر نے ایک گہری سانس لی۔

“میرے پاس اس رات کی پوری حقیقت نہیں ہے، ماہ نور۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے والد کی موت سے کچھ دن پہلے تمہارے والد ان سے ملنے آئے تھے۔ ان دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی تھی۔”

“کس بات پر؟”

“مجھے نہیں معلوم۔ لیکن میرے والد نے مرنے سے پہلے ایک خط چھوڑا تھا۔ اس خط میں تمہارے والد کا نام تھا۔”

ماہ نور کی آنکھوں میں حیرت پھیل گئی۔

“اور تم نے مجھے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی؟”

“کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ تم مجھے بھی اسی راز کا حصہ سمجھنے لگو گی۔”

ماہ نور نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا لیا۔

“محبت کا مطلب یہ نہیں کہ میں سچ جاننے کا حق چھوڑ دوں۔ اگر تم واقعی میرے ساتھ ہو تو مجھے حقیقت تک پہنچنے سے مت روکو۔”

آزر نے اسے دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس بار اسے روکنے کا مطلب ماہ نور کو ہمیشہ کے لیے کھو دینا ہو سکتا ہے۔

“ٹھیک ہے،” اس نے کہا۔ “ہم آج ہی تہہ خانے میں جائیں گے۔”


حویلی کے پچھلے حصے میں پرانی سیڑھیوں کے نیچے ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ اس پر برسوں سے زنگ آلود تالا لگا ہوا تھا۔

ماہ نور کی ماں نے جب انہیں وہاں جانے کے لیے تیار دیکھا تو اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

“تم دونوں وہاں نہیں جا سکتے۔”

ماہ نور نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“امی، بابا نے خط میں اسی جگہ کا ذکر کیا تھا۔ اگر وہاں ان کی موت کا جواب ہے تو مجھے جانا ہوگا۔”

اس کی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“تمہارے والد نے یہ راز تم سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی تھی۔ میں نہیں چاہتی کہ تم بھی اسی راستے پر چلو۔”

“لیکن اگر ہم خاموش رہے تو ان کے ساتھ انصاف کیسے ہوگا؟”

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کی ماں نے اپنی گردن سے ایک چھوٹی سی چابی اتاری۔

“یہ تمہارے والد نے مجھے دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک دن تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔”

آزر نے چابی لے کر تالے میں ڈالی۔

ایک بھاری آواز کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔

اندر سے نم مٹی، پرانی لکڑی اور بند ہوا کی بو آئی۔ دیواروں پر لٹکے چراغوں میں سے ایک آزر نے روشن کیا اور دونوں تنگ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے۔

تہہ خانے میں کئی پرانے صندوق رکھے تھے۔ ایک کونے میں لکڑی کی میز تھی جس پر گرد کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔

میز پر تین آدمیوں کی تصویر رکھی تھی۔

ماہ نور نے تصویر اٹھائی۔

اس میں اس کے والد، آزر کے والد اور حامد شاہ جوانی کے دنوں میں ایک ساتھ کھڑے مسکرا رہے تھے۔

تصویر کے پیچھے لکھا تھا:

“ہم تینوں نے ایک راز کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ مگر ہم میں سے ایک نے وعدہ توڑ دیا۔”

“یہ تینوں دوست تھے؟” ماہ نور نے حیرت سے پوچھا۔

آزر نے تصویر کو غور سے دیکھا۔

“میرے والد نے کبھی حامد شاہ کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکر نہیں کیا۔”

“شاید وہ چاہتے تھے کہ یہ حقیقت ہمیشہ چھپی رہے۔”

اچانک ماہ نور کو میز کے نیچے ایک چھوٹا سا خانہ نظر آیا۔ اس نے اسے کھولا تو اندر ایک سرخ کپڑے میں لپٹی فائل موجود تھی۔

فائل میں زمین کی پرانی دستاویزات، کچھ خطوط اور ایک کاغذ تھا جس پر تین نام درج تھے۔

سردار آزر شاہ کے والد، ماہ نور کے والد، اور حامد شاہ۔

ان ناموں کے نیچے ایک چوتھا نام بھی لکھا تھا، جسے سیاہی سے مٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ماہ نور نے کاغذ چراغ کے قریب کیا۔

“یہ نام کس کا ہے؟”

آزر نے کاغذ کو غور سے دیکھا۔

“شاید کوئی ایسا شخص جس کے بارے میں ہمارے خاندان نے کبھی بات نہیں کی۔”

اسی لمحے اوپر سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔

ماہ نور چونک کر سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔

“کون ہے؟ دروازہ کھولو!”

کوئی جواب نہ آیا۔

آزر نے دروازے کو دھکا دیا، مگر وہ باہر سے بند ہو چکا تھا۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

“کسی کو معلوم تھا کہ ہم یہاں آئیں گے،” ماہ نور نے گھبرا کر کہا۔

آزر نے فوراً چراغ بلند کیا۔

“گھبراؤ مت۔ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہوگا۔”

وہ تہہ خانے کی دیواروں کا جائزہ لینے لگا۔ کچھ دیر بعد اسے ایک پرانی الماری کے پیچھے ہوا کے گزرنے کا راستہ محسوس ہوا۔

دونوں نے مل کر الماری ہٹائی تو دیوار میں ایک تنگ دروازہ نظر آیا۔

لیکن اس دروازے کے سامنے قدم رکھتے ہی ماہ نور رک گئی۔

اندر سے کسی کے بولنے کی آواز آ رہی تھی۔

“فائل میرے حوالے کر دو، ورنہ تم دونوں یہاں سے زندہ نہیں نکل سکو گے۔”

یہ حامد شاہ کی آواز تھی۔


دوسری طرف حویلی کے بڑے ہال میں ماہ نور کی ماں بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔

اس نے زریں شاہ کو اپنے سامنے کھڑے دیکھا تو اس کے قدم رک گئے۔

“تمہیں معلوم تھا نا؟” ماہ نور کی ماں نے پوچھا۔ “تمہیں معلوم تھا کہ تہہ خانے میں کیا چھپا ہے؟”

زریں شاہ نے نظریں جھکا لیں۔

“میں نے بہت سال پہلے یہ سب ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دفن کرنے سے وہ ختم نہیں ہوتے۔”

“تو پھر تم نے ماہ نور کو کیوں نہیں بتایا؟”

زریں شاہ نے درد بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔

“کیونکہ جس دن وہ سچ جان لے گی، اس دن اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے باپ کے لیے انصاف چاہتی ہے یا اس شخص کو بچانا چاہتی ہے جس سے محبت کرتی ہے۔”

ماہ نور کی ماں کے چہرے پر خوف چھا گیا۔

“تم آزر کی بات کر رہی ہو؟”

زریں شاہ نے جواب دینے کے بجائے ہال کے بند دروازے کی طرف دیکھا۔

“میں اس شخص کی بات کر رہی ہوں جس کے پاس اصل خط ہے۔”


تہہ خانے میں آزر نے تنگ دروازہ کھولا۔

سامنے ایک چھوٹا سا خفیہ کمرہ تھا۔ اس کے اندر ایک پرانا صندوق رکھا تھا اور اس کے اوپر ایک لفافہ پڑا تھا۔

لفافے پر آزر کے والد کی لکھائی تھی۔

آزر نے اسے اٹھایا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔

“یہ میرے والد کا خط ہے۔”

ماہ نور اس کے قریب آ گئی۔

“اسے کھولو۔”

آزر نے خط کھولا اور پڑھنے لگا۔

چند سطروں کے بعد اس کی آنکھوں میں بے یقینی پھیل گئی۔

“کیا لکھا ہے؟” ماہ نور نے پوچھا۔

آزر نے کانپتی آواز میں پڑھنا شروع کیا:

“اگر یہ خط میرے بیٹے تک پہنچے تو اسے بتا دینا کہ ماہ نور کے والد کی موت کا راز ہمارے خاندان سے جڑا ضرور ہے، مگر اصل مجرم وہ نہیں جس پر سب کو شک ہے۔ اس رات میں نے جس شخص کو دیکھا تھا، وہ ہمارا تیسرا ساتھی نہیں تھا۔ وہ شخص تو برسوں پہلے مر چکا تھا…”

خط اچانک وہیں ختم ہو گیا۔

📚 Read Also 👇

🌿 Read Pregnancy Precautions

اس کے نیچے صرف ایک جملہ درج تھا:

“اصل نام اس صندوق میں ہے۔”

آزر نے صندوق کھولا۔

اس میں ایک پرانی انگوٹھی، خون کے دھبوں والا رومال اور ایک تصویر تھی۔

تصویر دیکھ کر ماہ نور کے ہاتھ سے فائل گر گئی۔

اس میں حامد شاہ نہیں تھے۔

اس میں زریں شاہ بھی نہیں تھیں۔

تصویر میں ماہ نور کے والد کے ساتھ کھڑا شخص آزر خود تھا—مگر تصویر کی تاریخ اس کی پیدائش سے کئی سال پہلے کی تھی۔

“یہ کیسے ممکن ہے؟” ماہ نور کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا۔

آزر تصویر کو دیکھتا رہ گیا۔ اس کے چہرے پر خوف کی ایسی کیفیت تھی جو ماہ نور نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

“یہ میں نہیں ہوں،” وہ بمشکل بولا۔ “یہ شخص مجھ جیسا دکھائی دیتا ہے… مگر میں اسے نہیں جانتا۔”

اچانک خفیہ کمرے کے دروازے پر کسی کا سایہ نمودار ہوا۔

ایک بھاری آواز گونجی:

“تم دونوں کو یہ تصویر نہیں دیکھنی چاہیے تھی۔”

ماہ نور نے پلٹ کر دیکھا۔

دروازے پر حامد شاہ کھڑے تھے، اور ان کے ہاتھ میں ایک پستول تھا۔

“فائل مجھے دے دو،” انہوں نے کہا۔ “اب اس کہانی کا آخری باب شروع ہوگا۔”

آزر ماہ نور کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

“اگر آپ نے اسے ہاتھ بھی لگایا تو—”

“تو کیا کرو گے، آزر؟” حامد شاہ ہنسے۔ “اپنے باپ کی طرح ایک اور غلطی؟”

ماہ نور نے آزر کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

“حامد صاحب، میرے بابا کو کس نے مارا تھا؟”

حامد شاہ کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

کچھ لمحے گزرے، پھر انہوں نے دھیمی آواز میں کہا:

“تمہارے والد کو قتل کرنے والا شخص آج بھی زندہ ہے۔ اور تم اسے ہر روز دیکھتی ہو۔”

ماہ نور کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔

حامد شاہ نے پستول نیچے کیا اور ایک ایسا نام لیا جس نے دونوں کو ساکت کر دیا۔

“وہ شخص… تمہاری ماں ہے۔”

ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

“نہیں… یہ جھوٹ ہے!”

“اگر جھوٹ ہے تو اپنی ماں سے پوچھ لینا کہ اس رات اس کے ہاتھوں پر خون کیوں لگا تھا۔”

اوپر سے اچانک ایک چیخ سنائی دی۔

تینوں نے ایک ساتھ سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔

یہ ماہ نور کی ماں کی آواز تھی۔

اور پھر ایک گولی چلنے کی آواز نے پوری حویلی کو ہلا کر رکھ دیا۔

جاری ہے…

❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط ہشتم میں: کیا ماہ نور کی ماں واقعی اپنے شوہر کی موت کی ذمہ دار تھی؟ گولی کس نے چلائی؟ اور تصویر میں آزر جیسا دکھائی دینے والا شخص آخر کون تھا؟

♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے