Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 8 | گولی کس نے چلائی؟

 پہاڑوں کی دلہن


تحریر: Hearts Where Stay

Every Heart Has a Story

پہاڑوں کی دلہن قسط ہشتم، گولی کس نے چلائی، ماہ نور اور آزر شاہ کے اردو رومانوی سسپنس ناول کی 16:9 کور امیج
پہاڑوں کی دلہن — قسط ہشتم گولی کس نے چلائی؟

ماہ نور اور آزر شاہ ایک پراسرار گولی، حمید شاہ کے زخمی ہونے، سکندر شاہ کی ممکنہ واپسی اور دو بچوں کی خفیہ تصویر کے راز میں الجھ جاتے ہیں۔ کیا آزر کی پیدائش کے پیچھے کوئی ایسا سچ چھپا ہے جو پورے شاہ خاندان کو بدل دے گا؟


ایک گولی، تین زندگیاں


تہہ خانے میں گونجنے والی گولی کی آواز نے جیسے وقت کو روک دیا تھا۔

ماہ نور کی چیخ اس کے حلق میں ہی دب کر رہ گئی۔ اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ چند لمحے پہلے حمید شاہ کے ہاتھ میں بندوق تھی، آزر اس کے سامنے کھڑا تھا، اور ماہ نور کی ماں دیوار کے ساتھ لگی اپنی سانسیں قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔


مگر اب حمید شاہ کے ہاتھ سے بندوق چھوٹ کر پتھر کے فرش پر گر چکی تھی، اور اس کے سفید کُرتے پر خون پھیل رہا تھا۔


"حمید شاہ!" آزر کی آواز تہہ خانے کی خاموشی چیر گئی۔


حمید نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔ اس کی انگلیوں کے درمیان سرخ خون چمک رہا تھا۔ اس نے لڑکھڑاتے ہوئے دیوار کا سہارا لیا، پھر اس کی نظریں آزر کے پیچھے اٹھیں۔


"وہ… واپس آ گیا ہے…" اس نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا۔


"کون واپس آ گیا ہے؟" آزر نے اسے سنبھالتے ہوئے پوچھا۔


حمید کے ہونٹ کانپے۔


"وہ شخص… جسے تم سب نے مردہ سمجھ لیا تھا۔"


اگلے ہی لمحے اس کے گھٹنے مڑ گئے اور وہ فرش پر گر پڑا۔


آزر نے حمید کی نبض چیک کی۔ نبض چل رہی تھی، مگر کمزور تھی۔ گولی اس کے کندھے کے قریب لگی تھی۔


"ماہ نور، اوپر جاؤ۔ فوراً کسی کو بلاؤ!"


ماہ نور نے اس کا بازو پکڑ لیا۔


"نہیں! میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ تم خود دیکھ رہے ہو کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ اگر یہ سب کوئی سازش ہے تو اگلی گولی تمہارے لیے بھی ہو سکتی ہے۔"


آزر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


"اور اگر تم یہاں رہیں تو وہ گولی تمہیں بھی لگ سکتی ہے۔"


"تو لگنے دو!"


یہ الفاظ ماہ نور کے منہ سے بے اختیار نکلے۔


ایک لمحے کے لیے آزر کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔


"اپنی جان کو اتنا معمولی مت سمجھو، ماہ نور۔"


"اور تم میری جان کی فکر کرنا کب سے سیکھ گئے؟" اس نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا۔


آزر خاموش ہو گیا۔

📚 Read Also 👇

🌿 Read Pregnancy Precautions

تہہ خانے میں خون، بارود اور پرانے کاغذوں کی ملی جلی بو پھیلی ہوئی تھی۔ دیوار پر لٹکی مدھم لالٹین کی روشنی میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، جیسے ان کے درمیان موجود سارے سوال اچانک زندہ ہو گئے ہوں۔


پھر حمید شاہ کراہا، اور وہ لمحہ ٹوٹ گیا۔


ماں کا وہ اعتراف جو سب کچھ بدل دے گا


کچھ ہی دیر میں گھر کے ملازمین اور ڈاکٹر کو بلا لیا گیا۔ حمید شاہ کو اوپر منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر نے زخم پر پٹی باندھی اور اسے ہوش میں رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔


آزر نے سب کو کمرے سے باہر بھیج دیا۔


اب وہاں صرف وہ، ماہ نور اور اس کی ماں موجود تھے۔


ماہ نور کی ماں مسلسل اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف تھا، مگر یہ خوف صرف حمید کے زخمی ہونے کا نہیں تھا۔


"امی…" ماہ نور اس کے قریب بیٹھ گئی۔ "آپ جانتی تھیں نا کہ یہ سب ہونے والا ہے؟"


اس کی ماں نے فوراً سر اٹھایا۔


"نہیں، میری بچی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ حمید پر گولی چل جائے گی۔"


"لیکن آپ جانتی تھیں کہ ابو کی موت حادثہ نہیں تھی۔ آپ جانتی تھیں کہ آزر کے والد، حمید شاہ اور ابو کے درمیان کوئی راز تھا۔ آپ نے اتنے سال مجھے اندھیرے میں کیوں رکھا؟"


اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو جمع ہو گئے۔


"کیونکہ میں تمہیں بچانا چاہتی تھی۔"


"کس سے؟"


کمرے میں خاموشی چھا گئی۔


ماہ نور نے اپنی ماں کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔


"امی، میں اب بچی نہیں ہوں۔ میں اپنے باپ کے قاتل کو جاننا چاہتی ہوں۔ اور اگر آزر کے خاندان کا اس میں کوئی ہاتھ ہے تو مجھے یہ بھی جاننا ہوگا۔"


اس کی ماں نے آزر کی طرف دیکھا۔


"اگر میں نے تمہیں سچ بتا دیا تو شاید تم اس شخص پر دوبارہ کبھی بھروسا نہ کر سکو۔"

ماہ نور کی انگلیاں اس کی ماں کے ہاتھوں پر سخت ہو گئیں۔


"کیا آپ آزر کی بات کر رہی ہیں؟"


اس کی ماں نے جواب نہیں دیا۔


یہ خاموشی، جواب سے زیادہ خوفناک تھی۔


آزر اب تک خاموش کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر غصہ بھی تھا اور ایک عجیب سی بے چینی بھی۔


"آپ مجھے مجرم سمجھتی ہیں؟" اس نے ماہ نور کی ماں سے پوچھا۔


"میں تمہیں نہیں جانتی، آزر شاہ۔ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ تمہارے والد نے ایک ایسا وعدہ توڑا تھا جس کی قیمت میری زندگی نے ادا کی۔"


"میرے والد اب زندہ نہیں ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا تھا تو مجھے ثبوت چاہیے، الزام نہیں۔"


ماہ نور کی ماں نے آہستہ سے کہا:


"ثبوت تہہ خانے میں ہے۔ لیکن وہ ثبوت صرف تمہارے والد کے خلاف نہیں… تمہارے اپنے خون کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔"


آزر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔


"میرے خون کے خلاف؟"


اس کی ماں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔


"مجھے معاف کر دو، ماہ نور۔ میں ابھی اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتی۔"


ماہ نور نے ہاتھ چھوڑ دیے۔


"آپ نے مجھے اتنے سال ایک جھوٹ کے ساتھ زندہ رکھا۔ اب میں مزید خاموش نہیں رہوں گی۔"


آزر کا ہم شکل


رات کے دو بج چکے تھے۔


گھر کے باقی حصے میں خاموشی تھی، مگر آزر کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔


اس نے تہہ خانے سے ملنے والی وہ پرانی تصویر اپنے سامنے میز پر رکھی۔ تصویر میں تین مرد تھے: ماہ نور کے والد، اس کے اپنے والد، اور حمید شاہ۔


اور پس منظر میں ایک چوتھا شخص بھی تھا، جس کا چہرہ تصویر سے مٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔

آزر نے تصویر کو چراغ کے قریب کیا۔


اسے ایک بات مسلسل پریشان کر رہی تھی۔


ڈبے میں ملنے والی دوسری تصویر میں جو شخص دکھائی دیا تھا، اس کا چہرہ آزر سے حیرت انگیز حد تک ملتا تھا۔ تصویر پر لکھی تاریخ آزر کی پیدائش سے کئی سال پہلے کی تھی۔


یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔


اس نے اپنا فون اٹھایا اور ایک پرانے واقف کار کو کال ملائی۔


"مجھے ایک نام اور ایک تصویر کی حقیقت معلوم کرنی ہے۔"


دوسری طرف سے نیند میں ڈوبی آواز آئی۔


"اس وقت؟"


"میرے پاس وقت نہیں ہے۔ مجھے اپنے والد کے پرانے ریکارڈ، خاص طور پر ان کے بیرونِ ملک سفر اور خاندانی دستاویزات کی معلومات چاہیے۔ اور یہ بات کسی تیسرے شخص تک نہیں پہنچنی چاہیے۔"


"آزر، تم کس مصیبت میں پڑ گئے ہو؟"


آزر نے تصویر کو دوبارہ دیکھا۔


"شاید میں اس خاندان کا وہ شخص نہیں ہوں جس کا مجھے ہمیشہ یقین دلایا گیا۔"


کال ختم ہوئی تو اس نے تصویر کے پچھلے حصے پر انگلی پھیری۔ وہاں دھندلے حروف میں ایک نام لکھا تھا۔


سکندر شاہ


آزر کے والد کا نام بھی سکندر شاہ تھا۔


لیکن تصویر میں لکھا ہوا نام کس کے لیے تھا؟


اسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔


"کون؟"


کوئی جواب نہ آیا۔

آزر نے دروازہ کھولا تو سامنے ماہ نور کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں تہہ خانے سے ملنے والا وہ خط تھا۔


"ہمیں بات کرنی ہے، آزر۔ ابھی۔"


"کیا ہوا؟"


ماہ نور نے خط اس کے سامنے کھول دیا۔


"میں نے یہ خط دوبارہ پڑھا ہے۔ اس بار مجھے ایک ایسی بات نظر آئی ہے جو پہلے سمجھ نہیں آئی تھی۔"


آزر نے کاغذ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔


خط کے آخر میں ایک جملہ تھا، جس کے نیچے کسی نے سرخ روشنائی سے لکیر کھینچی ہوئی تھی:


"اگر سکندر کا بیٹا حقیقت جان گیا، تو شاہ خاندان کا نام ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔"


آزر نے آہستہ سے سر اٹھایا۔


"ماہ نور… تمہاری ماں نے اس خط کے بارے میں کیا کہا؟"


"وہ اس نام سے خوف زدہ ہو گئیں۔"


"کس نام سے؟"


"سکندر شاہ سے۔"


آزر کے ہاتھ میں موجود کاغذ لرزنے لگا۔


"لیکن سکندر شاہ تو میرے والد تھے۔"


ماہ نور نے دھیمی آواز میں کہا:


"پھر تمہارے والد کا نام اس خط میں ایسی دھمکی کے ساتھ کیوں لکھا گیا ہے؟"


اس سوال کا جواب دونوں کے پاس نہیں تھا۔


بند کمرے کے پیچھے کون تھا؟


اسی وقت گھر کے پچھلے حصے سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔


آزر فوراً دروازے کی طرف لپکا۔ ماہ نور بھی اس کے پیچھے گئی۔


راہداری کے آخری سرے پر ایک دروازہ تھا جو برسوں سے بند پڑا تھا۔ اس کمرے کے بارے میں ملازمین کا کہنا تھا کہ وہاں سکندر شاہ کی پرانی ذاتی چیزیں رکھی تھیں۔


آج اس دروازے کے نیچے سے روشنی باہر آ رہی تھی۔


آزر نے آہستہ سے دروازے کا ہینڈل گھمایا۔


دروازہ اندر سے بند تھا۔


"کون ہے اندر؟" اس نے بلند آواز میں پوچھا۔


خاموشی۔


پھر اندر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔


ماہ نور نے سرگوشی کی، "آزر، یہاں کوئی ہے۔"


آزر نے دروازے پر زور سے دستک دی۔

"دروازہ کھولو!"


اچانک اندر سے ایک آواز آئی۔


"واپس چلے جاؤ، آزر۔ یہ تمہارا معاملہ نہیں ہے۔"


آزر کا جسم جیسے سن ہو گیا۔


وہ آواز…


وہ آواز اس نے برسوں پہلے سنی تھی۔


اپنے والد کی آواز۔


مگر سکندر شاہ کو مرے ہوئے بارہ سال ہو چکے تھے۔


ماہ نور نے اس کا بازو پکڑ لیا۔


"آزر… یہ کون ہے؟"


آزر کے ہونٹوں سے بمشکل الفاظ نکلے۔


"یہ… میرے والد کی آواز ہے۔"


اگلے ہی لمحے اندر روشنی بجھ گئی۔


دروازے کے پیچھے کسی نے آہستہ سے کہا:


"بیٹا، تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔"


آزر نے دروازے پر ہاتھ رکھا۔


اس کی آنکھوں میں پہلی بار خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔


کیونکہ اگر یہ واقعی اس کے والد کی آواز تھی، تو اس کا مطلب صرف ایک تھا۔


سکندر شاہ شاید کبھی مرا ہی نہیں تھا۔


ایک پرچی، ایک نیا راز


ماہ نور نے آزر کا ہاتھ پکڑ لیا۔


"ہمیں یہاں سے جانا ہوگا۔ ابھی۔"


مگر آزر اپنی جگہ سے نہ ہلا۔


"بارہ سال…" اس نے سرگوشی کی۔ "بارہ سال تک کس نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ مر چکے ہیں؟"


دروازے کے اندر سے ایک پرچی نیچے سرک کر باہر آئی۔


آزر نے اسے اٹھایا۔


اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:


"اپنی ماں سے پوچھو کہ تمہاری پیدائش کی رات اصل میں کیا ہوا تھا۔"


آزر نے آہستہ سے ماہ نور کی طرف دیکھا۔


اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ جس عورت پر وہ دنیا میں سب سے زیادہ بھروسا کرتا تھا، شاید وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا راز چھپائے بیٹھی ہے۔


دوسری طرف، گھر کی بالائی منزل پر ماہ نور کی ماں اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔


اس کے ہاتھ میں ایک پرانی تصویر تھی۔

تصویر میں دو نومولود بچے تھے۔


اور نیچے لکھا تھا:


"ایک وارث، ایک راز… اور ایک بچہ جس کی شناخت بدل دی گئی۔"


ماہ نور کی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔


"یا اللہ… اب یہ سچ سامنے آ کر رہے گا۔"


اسی لمحے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔


وہ پلٹی تو سامنے ایک سایہ کھڑا تھا۔


اس شخص نے دھیمی آواز میں کہا:


"تم نے وعدہ کیا تھا کہ یہ راز کبھی نہیں کھولو گی۔"


ماہ نور کی ماں کے ہاتھ سے تصویر گر گئی۔


"تم… تم واپس کیوں آئے ہو؟"


سایہ ایک قدم آگے بڑھا۔


"اپنا ادھورا کام ختم کرنے۔"


جاری ہے…


قسط 9 میں: آزر کی پیدائش کا راز، دو بچوں کی پراسرار تصویر، اور وہ شخص جو بارہ سال سے مردہ سمجھا جاتا تھا۔


Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story

♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے