پہاڑوں کی دلہن |قسط 12: ایک چہرہ، دو وارث
”تم نے بہت دیر کر دی، بھائی۔“
اس نوجوان کی آواز تہہ خانے کی خاموشی میں گونجی تو آذر کے قدم وہیں جم گئے۔ سامنے کھڑے شخص کا چہرہ اس کے اپنے چہرے سے اتنا ملتا تھا کہ ایک لمحے کے لیے اسے لگا جیسے وہ کسی آئینے میں خود کو دیکھ رہا ہو۔ فرق صرف اتنا تھا کہ نوجوان کی آنکھوں میں برسوں کا غصہ، درد اور ایک عجیب سی بے رحمی تھی۔
ماہ نور نے بے یقینی سے آذر کی طرف دیکھا۔
”آذر… یہ کون ہے؟“
آذر کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکلی۔
نوجوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ”کیا ہوا؟ اپنی ہی شکل دیکھ کر زبان بند ہو گئی؟ یا پھر تمہیں ڈر ہے کہ کہیں تمہاری پوری زندگی ایک جھوٹ ثابت نہ ہو جائے؟“
”تم ہو کون؟“ آذر نے بالآخر پوچھا۔
”یہ سوال تمہیں بارہ سال پہلے کرنا چاہیے تھا۔ جب ایک بچے کو محل نما حویلی میں شہزادے کی طرح پالا جا رہا تھا اور دوسرے کو دنیا کی نظروں سے چھپا دیا گیا تھا۔“
سکندر شاہ نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، مگر نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
”وہیں رک جاؤ، سکندر شاہ! آج آپ کی وضاحتیں کوئی نہیں سنے گا۔ بارہ سال تک آپ نے سب کو یہی یقین دلایا کہ میں مر چکا ہوں۔ اب میں خود اپنی کہانی سنانے آیا ہوں۔“
کریم بخش کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
”یا اللہ… تو واقعی زندہ ہے!“
نوجوان نے اس کی طرف دیکھا۔ ”ہاں، کریم بخش۔ میں زندہ ہوں۔ لیکن تم لوگوں نے میرے حصے کی زندگی مجھ سے چھین لی۔“
ماہ نور نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا، ”تمہارا نام کیا ہے؟“
نوجوان کی آنکھیں اس پر ٹھہر گئیں۔ چند لمحے وہ خاموش رہا، پھر بولا، ”میرا نام زایان ہے۔ اور اگر اس پرانے رجسٹر میں لکھی بات سچ ہے تو میں آذر کا جڑواں بھائی ہوں۔“
یہ سنتے ہی ماہ نور کے ہاتھ سے وہ کاغذ گر گیا جو وہ ابھی تک مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔
”جڑواں بھائی؟“ اس نے آذر کی طرف دیکھا۔ ”لیکن تمہیں تو کبھی نہیں بتایا گیا کہ تمہارا کوئی بھائی بھی ہے!“
آذر کی آنکھوں میں سوال ہی سوال تھے۔ ”اگر تم میرے بھائی ہو تو تمہیں ہم سے الگ کیوں رکھا گیا؟ اور تم بارہ سال کہاں تھے؟“
زایان کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی۔
”کیونکہ کسی کو خوف تھا کہ اگر دونوں وارث ایک ساتھ بڑے ہوئے تو حویلی کی اصل حقیقت سامنے آ جائے گی۔ مجھے بچپن میں بتایا گیا کہ میری ماں مر چکی ہے، میرا باپ مجھے چھوڑ گیا ہے اور میرا ایک بھائی تھا جو پیدائش کے وقت ہی مر گیا۔ پھر ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ یہ سب جھوٹ تھا۔“
”تمہیں یہ کس نے بتایا؟“ سکندر شاہ نے پوچھا۔
زایان نے اپنی جیب سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔
”اس خط نے۔ یہ خط مجھے تین ماہ پہلے ملا تھا۔ اس پر میری ماں کے دستخط ہیں۔“
آذر نے فوراً خط لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر زایان نے اسے پیچھے کر لیا۔
”ابھی نہیں، بھائی۔ پہلے تمہیں یہ جاننا ہوگا کہ تمہیں کس نے پالا اور تمہاری اصل ماں کون تھی۔“
”میری ماں زینب بیگم تھیں،“ آذر نے فوراً کہا۔ ”رجسٹر میں ان کا نام موجود ہے۔“
زایان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری۔
”رجسٹر میں نام ہونا اور حقیقت میں ماں ہونا دو الگ باتیں ہیں، آذر۔ تمہیں جس عورت کی گود میں دیا گیا، ضروری نہیں کہ تم اسی کے بیٹے ہو۔“
ماہ نور نے حیرت سے سکندر شاہ کی طرف دیکھا۔ ”آپ کو سب معلوم تھا؟“
سکندر شاہ نے نظریں جھکا لیں۔
یہ خاموشی کسی اعتراف سے کم نہ تھی۔
”جواب دیں!“ آذر کی آواز بلند ہو گئی۔ ”کیا میں زینب بیگم کا بیٹا نہیں ہوں؟“
سکندر شاہ نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، ”تم دونوں کی پیدائش کی رات اس حویلی میں ایسا واقعہ ہوا تھا جس نے کئی زندگیاں بدل دیں۔ میں نے ایک وعدہ کیا تھا… اور اسی وعدے نے مجھے بارہ سال تک خاموش رکھا۔“
”کس سے وعدہ کیا تھا؟“ ماہ نور نے پوچھا۔
اس بار سکندر شاہ نے اس کی طرف دیکھا۔
”تمہاری ماں سے، ماہ نور۔“
ماہ نور کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔
”میری ماں؟ مگر میری ماں کا اس حویلی کے راز سے کیا تعلق ہے؟“
زایان نے خط کھولا، لیکن پڑھنے سے پہلے ہی تہہ خانے کے باہر کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔ سب چونک کر دروازے کی طرف متوجہ ہوئے۔
کریم بخش نے سرگوشی کی، ”کوئی ہماری باتیں سن رہا ہے۔“
آذر تیزی سے دروازے کے قریب گیا۔ باہر قدموں کی آہٹ سنائی دی، پھر اچانک سب خاموش ہو گیا۔
زایان نے خط دوبارہ بند کیا اور ماہ نور کی طرف بڑھا دیا۔
”یہ تم پڑھو۔ اس خط میں تمہارا نام بھی ہے۔“
ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔ پرانے کاغذ پر مدھم سیاہی سے چند سطریں لکھی تھیں:
”اگر یہ خط ماہ نور تک پہنچے تو اسے بتا دینا کہ وہ اس راز کی گواہ نہیں، بلکہ اس راز کا سب سے اہم حصہ ہے۔ دو بچوں کی شناخت بدلی گئی تھی، مگر تیسرا نام رجسٹر سے مٹایا گیا۔ جب تینوں حقیقتیں سامنے آئیں گی تو حویلی کا اصل وارث خود ظاہر ہو جائے گا۔“
ماہ نور کی سانس رک سی گئی۔
”تین بچے؟“ اس نے سر اٹھا کر کہا۔ ”ہم تو ہمیشہ دو بچوں کی بات کرتے رہے ہیں!“
اسی لمحے تہہ خانے کی دیوار کے پیچھے سے دھیمی سی دستک سنائی دی۔
ایک بار۔
پھر دوسری بار۔
اور پھر ایک عورت کی آواز ابھری:
”زایان… خط اسے مت پڑھنے دینا۔ اسے ابھی یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ تیسرا بچہ کون ہے۔“
زایان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
آذر نے دیوار کی طرف دیکھا۔ ”یہ آواز…“
سکندر شاہ نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے وہ اسی لمحے سے سب سے زیادہ ڈرتا تھا۔
ماہ نور نے خط کو سینے سے لگا لیا۔
”یہ کون ہے؟“ اس نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
دیوار میں چھپا دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ اندر اندھیرا تھا، مگر اس اندھیرے میں ایک عورت کا سایہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
عورت نے قدم باہر رکھا تو کریم بخش کے منہ سے بے اختیار نکلا:
Read Also 👇
💊 Statins Tablets: Complete Guide →”زینب بیگم…!“
آذر نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ”لیکن زینب بیگم تو—“
”مردہ نہیں ہوں، آذر،“ عورت نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمہیں بتایا جائے کہ اس حویلی کے تین بچوں میں سے اصل وارث کون ہے۔“
اس کی نظر ماہ نور پر جا ٹھہری۔
”لیکن پہلے ماہ نور کو اپنی پیدائش کی حقیقت جاننی ہوگی۔“
جاری ہے…
قسط 13 میں انکشاف ہوگا: ماہ نور کی اصل شناخت کیا ہے، تیسرا بچہ کون ہے، اور حویلی کے وارث کا فیصلہ آخر کس کے حق میں جائے گا؟
مزید اقساط پڑھنے کے لیے وزٹ کریں: Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
Welcome to Our Royal Story Palace
ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت
⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

0 تبصرے