پہاڑوں کی دلہن ❤️
قسط ششم — ماں کی واپسی
ماہ نور کی ماں کی پراسرار واپسی، آزر شاہ کے خاندان کے چھپے راز، ایک پرانا خط اور تہہ خانے میں دفن حقیقت کی سنسنی خیز داستان۔
رات کے اندھیرے میں حویلی کے باہر گاڑی آ کر رکی تو پہاڑوں پر چھائی دھند مزید گہری ہو چکی تھی۔
گاڑی کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔
ایک عورت باہر نکلی۔ اس نے سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی، مگر اس کے ہاتھ میں چمکتی ہوئی چاندی کی انگوٹھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ چند لمحے حویلی کو دیکھتی رہی۔
اس کی آنکھوں میں برسوں کا درد، ایک ادھوری محبت اور ایسا راز چھپا تھا جس نے اس کی پوری زندگی بدل دی تھی۔
“آخر میں واپس آ ہی گئی،” اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ “اب اس گھر کو میرا سچ سننا ہوگا۔”
وہ مرکزی دروازے کی طرف بڑھی اور دستک دی۔
دروازہ کھولنے والا ملازم اسے دیکھ کر ساکت رہ گیا۔
“بی بی… آپ؟”
عورت نے اپنی چادر ذرا پیچھے کی۔
ملازم کے ہاتھ سے چراغ تقریباً گر گیا۔
“آپ تو…”
“ہاں،” عورت نے اس کی بات کاٹ دی۔ “میں زندہ ہوں۔ اور اب اس حویلی میں میرا حق بھی زندہ ہوگا۔”
✨ READ ALSO ✨
🍔 Healthy Fast Food Kids Meals مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 👇Recommended Article • Read More
دوسری طرف ماہ نور اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ آزر کے فون پر آنے والے پیغام کے الفاظ مسلسل اس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔
وہ عورت جسے تم مردہ سمجھتے ہو، ابھی زندہ ہے۔
کیا وہ عورت واقعی اس کی ماں تھی؟
اس نے اپنی مٹھی کھولی۔ باغ میں ملنے والی چاندی کی انگوٹھی اس کی ہتھیلی پر رکھی تھی۔ انگوٹھی کے اندر باریک حروف میں ایک نام کندہ تھا، مگر مٹی اور زنگ کی وجہ سے وہ پوری طرح پڑھ نہیں پا رہی تھی۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
“ماہ نور…”
یہ آزر کی آواز تھی۔
اس نے دروازہ کھولا تو آزر کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی تھی۔
“تمہیں میرے ساتھ نیچے چلنا ہوگا۔”
“کیا ہوا ہے؟”
“حویلی میں کوئی آیا ہے۔ کوئی ایسا شخص جس کے بارے میں ہم سب کو بتایا گیا تھا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔”
ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔
“کیا وہ میری ماں ہیں؟”
آزر خاموش رہا۔
اس خاموشی نے ماہ نور کو جواب دے دیا۔
وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ آزر نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی، بس اس کے ساتھ چلتا رہا۔
حویلی کے بڑے ہال میں سب جمع تھے۔
حامد شاہ کے چہرے پر پہلی بار ایسا خوف تھا جسے وہ چھپا نہیں پا رہے تھے۔ زریں شاہ ایک طرف کھڑی تھیں اور ان کی نگاہیں دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔
دروازہ کھلا۔
سیاہ چادر میں لپٹی عورت اندر داخل ہوئی۔
ماہ نور نے اسے دیکھا تو اس کے قدم وہیں رک گئے۔
عورت نے آہستہ سے چادر اتاری۔
اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں تھکن تھی، مگر وہی مانوس خدوخال تھے جنہیں ماہ نور نے بچپن کی چند دھندلی تصویروں میں دیکھا تھا۔
“امی…؟”
یہ لفظ ماہ نور کے ہونٹوں سے سرگوشی بن کر نکلا۔
عورت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“میری بچی…”
ماہ نور دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔
برسوں کی محرومی، ادھورے سوال اور دل میں جمع شکایتیں ایک لمحے میں آنسو بن کر بہنے لگیں۔
“آپ کہاں تھیں؟” ماہ نور روتے ہوئے بولی۔ “سب نے مجھے بتایا کہ آپ مر چکی ہیں۔ میں نے کتنی راتیں آپ کے انتظار میں گزاری ہیں!”
اس کی ماں نے اسے مضبوطی سے گلے لگایا۔
“مجھے معاف کر دو، میری جان۔ میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔”
ماہ نور اچانک پیچھے ہٹی۔
“پھر آپ گئی کیوں تھیں؟ اور بابا کی موت کیسے ہوئی؟”
ہال میں خاموشی چھا گئی۔
عورت نے حامد شاہ کی طرف دیکھا۔
“کیونکہ تمہارے والد نے ایک ایسا راز جان لیا تھا جسے اس خاندان کے طاقتور لوگ ہمیشہ کے لیے دفن کرنا چاہتے تھے۔”
حامد شاہ آگے بڑھے۔
“بس کرو! تمہیں یہاں واپس آنے کا کوئی حق نہیں۔”
عورت کی آنکھوں میں برسوں بعد غصہ بھڑکا۔
“حق؟ میرا حق تم نے اس دن چھینا تھا جس دن تم نے مجھے اپنے شوہر کی موت کا الزام دے کر اس گھر سے نکلوایا تھا!”
ماہ نور نے حیرت سے ماں کو دیکھا۔
“آپ کے شوہر… یعنی میرے بابا؟”
عورت نے سر ہلایا۔
“تمہارے والد کی موت حادثہ نہیں تھی، ماہ نور۔ وہ سچ تک پہنچ چکے تھے۔ اور جس رات وہ مرے، اس رات میں نے اپنی آنکھوں سے ایک ایسا منظر دیکھا تھا جسے میں کبھی بھلا نہیں سکی۔”
آزر نے بے اختیار پوچھا، “آپ نے قاتل کو دیکھا تھا؟”
عورت نے اس کی طرف دیکھا۔
“ہاں۔ مگر میں اس کا نام آج بھی لینے سے ڈرتی ہوں۔”
“کیوں؟” ماہ نور کی آواز بلند ہو گئی۔ “اب کس بات کا خوف ہے؟ میں آپ کی بیٹی ہوں!”
اس کی ماں نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
“کیونکہ وہ شخص صرف تمہارے والد کا دشمن نہیں تھا۔ وہ تمہاری زندگی کے سب سے قریب لوگوں میں سے ایک ہے۔”
ماہ نور کی نظر بے اختیار آزر کی طرف اٹھ گئی۔
آزر نے فوراً کہا، “ماہ نور، میری طرف دیکھو۔ میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔”
مگر اس کی ماں نے تلخی سے جواب دیا، “تمہارے خاندان میں سچ بولنے والے بہت کم رہے ہیں، آزر شاہ۔”
آزر خاموش ہو گیا۔
سب کے جانے کے بعد ماہ نور اپنی ماں کے ساتھ پرانے کمرے میں بیٹھی تھی۔
اس کی ماں نے اپنے سامان سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔
“یہ تمہارے والد نے مجھے اپنی موت سے دو دن پہلے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کبھی تم تک پہنچنے کا موقع ملے تو یہ خط تمہیں دے دوں۔”
ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔
خط میں لکھا تھا:
“میری ماہ نور،
اگر تم یہ خط پڑھ رہی ہو تو شاید میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا۔ میں چاہتا تھا کہ تم ایک ایسی دنیا میں بڑی ہو جہاں تمہیں کسی کے گناہوں کی سزا نہ بھگتنی پڑے۔ لیکن اگر میرے ساتھ کچھ ہو جائے تو یاد رکھنا، ہر وہ شخص مجرم نہیں ہوتا جس پر انگلی اٹھائی جائے، اور ہر وہ شخص بے گناہ نہیں ہوتا جو تمہارے آنسو پونچھتا ہے۔
اپنی ماں پر بھروسا کرنا۔ اس کے پاس وہ آخری ثبوت ہے جس کی مدد سے تم حقیقت تک پہنچ سکتی ہو۔ اور اگر کبھی تمہیں شاہ حویلی کے تہہ خانے میں بند کمرہ ملے تو وہاں جانے سے مت ڈرنا۔ وہاں تمہارے خاندان کی اصل کہانی دفن ہے۔
تمہارا بابا۔”
خط پڑھتے پڑھتے ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
“امی، حویلی کا تہہ خانہ کہاں ہے؟”
اس کی ماں نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“نہیں، ماہ نور! تم وہاں نہیں جاؤ گی۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ وہاں صرف راز دفن نہیں ہیں۔ وہاں وہ ثبوت بھی ہے جس کے لیے ایک انسان آج بھی کسی کو قتل کر سکتا ہے۔”
ماہ نور نے اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھا۔
“اگر بابا نے میرے لیے وہ خط چھوڑا تھا تو میں سچ سے بھاگ نہیں سکتی۔”
اس کی ماں نے کچھ کہنا چاہا، مگر اسی وقت باہر سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔
دونوں چونک کر دروازے کی طرف دیکھنے لگیں۔
ماہ نور نے دروازہ کھولا تو راہداری خالی تھی۔
فرش پر ایک چھوٹی سی پرچی پڑی تھی۔
اس پر سرخ روشنائی سے لکھا تھا:
“تہہ خانے کا دروازہ کھولنے سے پہلے اپنے محبوب سے پوچھ لینا کہ اس کے ہاتھوں پر تمہارے باپ کا خون کیوں ہے۔”
ماہ نور کی سانس رک گئی۔
پیچھے آزر کھڑا تھا۔
اس کی نگاہ پرچی پر پڑی تو اس کا چہرہ سفید ہو گیا۔
“آزر…” ماہ نور کی آواز کانپ رہی تھی۔ “یہ کیا مطلب ہے؟”
آزر نے ہونٹ کھولے، مگر کوئی لفظ ادا نہ کر سکا۔
اس کی خاموشی نے ماہ نور کے دل میں ایک نیا خوف پیدا کر دیا۔
“مجھے سچ بتاؤ!” وہ چیخی۔ “کیا تم میرے بابا کی موت کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟”
آزر نے نظریں جھکا لیں۔
“ہاں، ماہ نور۔ میں ایک بات جانتا ہوں… مگر وہ پوری حقیقت نہیں ہے۔”
“تو پھر پوری حقیقت کیا ہے؟”
آزر نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں درد تھا۔
“میرے والد کی موت سے پہلے تمہارے والد نے انہیں ایک خط بھیجا تھا۔ اور اس خط کے بعد میرے خاندان میں جو کچھ ہوا، اس نے سب کی زندگیاں بدل دیں۔”
“وہ خط کہاں ہے؟”
آزر نے آہستہ سے جواب دیا:
“تہہ خانے میں۔”
✨ READ ALSO ✨
❤️ Best Diet for High Blood Pressure صحت سے متعلق مزید معلومات کے لیے کلک کریں 👇Recommended Article • Read More
اسی رات حویلی کے پچھلے حصے میں ایک سایہ خاموشی سے حرکت کر رہا تھا۔
وہ شخص تہہ خانے کے بند دروازے کے سامنے رکا، جیب سے ایک پرانی چابی نکالی اور تالے میں ڈال دی۔
دروازہ کھلنے سے پہلے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
اس کے چہرے پر خوف نہیں تھا۔
صرف ایک فیصلہ تھا۔
“اب کوئی سچ تک نہیں پہنچے گا،” اس نے سرگوشی کی۔
پھر وہ تہہ خانے میں اتر گیا۔
دروازہ بند ہوا تو اندھیرے میں ایک پرانی تصویر روشن ہوئی۔ تصویر میں ماہ نور کے والد، آزر کے والد اور حامد شاہ ایک ساتھ کھڑے تھے۔
تصویر کے پیچھے لکھا تھا:
“تین دوست، ایک وعدہ… اور ایک ایسا گناہ جس کی قیمت اگلی نسل ادا کرے گی۔”
جاری ہے…
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط ہفتم میں:
کیا آزر کے والد کا ماہ نور کے والد کی موت سے کوئی تعلق تھا؟ تہہ خانے میں کون چھپا ہے؟ اور وہ تیسرا دوست کون تھا جس کا راز پورے شاہ خاندان کو تباہ کر سکتا ہے؟
❤️ پہاڑوں کی دلہن ❤️
📖 قسط اول پڑھیںوہ اجنبی جو دل میں اتر گیا
Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
Welcome to Our Royal Story Palace
ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت
⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

0 تبصرے