پہاڑوں کی دلہن — قسط 10|صندوق میں چھپا ہوا نام
تحریر: Hearts Where Stay|Every Heart Has a Story
دروازے پر ہونے والی دستک نے کمرے کی خاموشی توڑ دی۔
ماہ نور کی ماں نے کانپتے ہاتھوں سے کنڈی کھولی تو سامنے ماہ نور کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی بھی تھی۔
’’اماں جان، آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں؟ اور کمرے میں یہ دوسرا چراغ کیوں جل رہا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں بیٹا، طبیعت ذرا خراب تھی۔‘‘
ماہ نور نے ماں کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
’’آپ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہیں، ہے نا؟‘‘
ماں نے جواب دینے کے بجائے اسے گلے لگا لیا۔
’’کاش بیٹا، میں تمہیں وہ سب کچھ بتا سکتی جو میرے دل پر بوجھ بن کر رکھا ہے۔‘‘
اسی لمحے راہداری سے آذر کی آواز آئی۔
’’ماہ نور! تم کہاں ہو؟ مجھے وہ صندوق مل گیا ہے!‘‘
ماہ نور فوراً پلٹی۔ آذر کے ہاتھ میں لکڑی کی ایک پرانی چابی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف اور حیرت دونوں نمایاں تھے۔
Read Also 👇
💊 Statins Tablets: Complete Guide →’’کون سا صندوق؟‘‘ ماہ نور نے پوچھا۔
’’وہی جو مغربی کمرے میں برسوں سے بند پڑا تھا۔ اس کے اندر کچھ پرانی تصویریں، ایک خط اور بچوں کے پیدائشی ریکارڈ ہیں۔‘‘
ماہ نور کی ماں کے چہرے سے رنگ اڑ گیا۔
سکندر شاہ اب بھی کمرے کے تاریک کونے میں چھپا ہوا تھا۔ اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں، جیسے اسے اندازہ ہو گیا ہو کہ وہ لمحہ آ پہنچا ہے جس سے وہ بارہ سال سے بھاگ رہا تھا۔
آذر نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
’’اماں، ان کاغذوں پر میرے نام کے ساتھ دو مختلف تاریخیں کیوں لکھی ہوئی ہیں؟ اور ایک ہی دن دو بچوں کی پیدائش کا اندراج کیوں ہے؟‘‘
ماں کے ہونٹ کھلے، مگر آواز نہ نکلی۔
آذر نے خط نکالا۔
’’یہ دیکھیے۔ اس پر لکھا ہے کہ ایک بچے کا نام بدل دیا گیا تھا۔ آخر کیوں؟ کس نے بدلا؟‘‘
ماہ نور نے خط اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ کاغذ پر سیاہی دھندلا چکی تھی، مگر آخری سطر صاف پڑھی جا سکتی تھی:
’’جس دن دونوں وارث ایک دوسرے کو پہچان لیں گے، اس دن حویلی کا اصل مالک سامنے آ جائے گا۔‘‘
ماہ نور نے حیرت سے آذر کو دیکھا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے؟‘‘
آذر نے بے یقینی سے سر ہلایا۔
’’مجھے تو ہمیشہ بتایا گیا کہ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔‘‘
’’اور اگر تمہیں یہ بات جان بوجھ کر بتائی گئی ہو؟‘‘ ماہ نور نے آہستہ سے کہا۔
آذر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔
’’تو پھر میں اس شخص کو ڈھونڈ نکالوں گا جس نے میری زندگی کے بارہ سال جھوٹ کے سائے میں گزار دیے!‘‘
یہ سنتے ہی کمرے کے اندر سے ایک آواز ابھری۔
’’سچ کی تلاش میں نکلنے سے پہلے یہ جان لو کہ ہر راز کا جواب تمہیں خوشی نہیں دے گا۔‘‘
آذر نے تیزی سے دروازے کی طرف دیکھا۔
’’کون ہے؟ باہر آؤ!‘‘
تاریک کونے سے ایک شخص آہستہ آہستہ باہر نکلا۔
ماہ نور کی ماں کے لبوں سے بے اختیار نکلا، ’’سکندر شاہ!‘‘
آذر چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس کے چہرے پر پہچان کی ایک دھندلی سی لہر ابھری۔
’’تم… تم تو مر چکے تھے!‘‘
📚 Read Also 👇
💧 Hydrate to Heal: How Water Supports Your Bodyسکندر شاہ نے سرد لہجے میں جواب دیا، ’’دنیا نے یہی سمجھا تھا۔ مگر کچھ لوگوں کو زندہ رہنا پڑتا ہے، تاکہ وہ اپنے کیے ہوئے گناہوں کا حساب دے سکیں۔‘‘
آذر نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
’’میرے والد کی موت کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ اور میرے پیدائشی ریکارڈ میں تبدیلی کس نے کی؟‘‘
سکندر شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’تمہارے والد کی موت ایک الگ راز ہے۔ لیکن تمہاری پیدائش کے معاملے میں ایک ایسا شخص ملوث تھا جس پر تم آج بھی بھروسا کرتے ہو۔‘‘
’’نام بتاؤ!‘‘ آذر دھاڑا۔
سکندر شاہ خاموش رہا۔
’’نام بتاؤ!‘‘ آذر نے دوبارہ کہا۔
سکندر شاہ نے اپنی جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی اور آذر کے سامنے رکھ دی۔
تصویر میں دو نومولود بچے ایک ہی بستر پر لیٹے تھے۔ ان کے ساتھ ایک عورت کھڑی تھی، جس کا چہرہ تصویر میں واضح نہیں تھا۔ تصویر کے پیچھے ایک نام لکھا تھا:
زینب بیگم۔
ماہ نور نے تصویر دیکھتے ہی اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
’’اماں جان… یہ زینب بیگم کون ہیں؟‘‘
ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’وہ عورت جس نے تمہارے خاندان کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دی۔‘‘
📚 Read Also 👇
🌿 Read Pregnancy Precautionsآذر نے تصویر اپنے ہاتھ میں لے لی۔
’’اور ان دو بچوں میں سے دوسرا کون ہے؟‘‘
سکندر شاہ نے گہری سانس لی۔
’’اس کا نام بتانے سے پہلے تمہیں یہ جاننا ہوگا کہ تمہیں کس کے حوالے کیا گیا تھا، اور کس بچے کو تمہاری جگہ کسی اور نام سے پکارا جانے لگا۔‘‘
آذر کے چہرے پر الجھن گہری ہو گئی۔
’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
سکندر شاہ نے جواب دیا، ’’یہ کہ تم جس خاندان کو اپنا سمجھتے آئے ہو، اس کے ہر فرد نے تم سے ایک نہ ایک سچ چھپایا ہے۔ لیکن ان سب میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے تمہیں بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈال دی تھی۔‘‘
’’کون؟‘‘ ماہ نور نے پوچھا۔
سکندر شاہ نے اس کی طرف دیکھا، پھر آذر کی طرف۔
’’وہ شخص آج بھی اسی حویلی میں موجود ہے۔‘‘
تینوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔
اسی وقت باہر سے ایک چیخ سنائی دی۔
’’بچاؤ! کوئی ہے؟‘‘
یہ آواز حویلی کے بوڑھے ملازم کریم بخش کی تھی، جسے سب لوگ بارہ سال سے مردہ سمجھتے تھے۔
آذر اور ماہ نور دوڑتے ہوئے صحن کی طرف نکلے۔ وہاں کوئی موجود نہیں تھا، مگر فرش پر خون کے چند قطرے اور ایک چھوٹا سا کاغذ پڑا تھا۔
آذر نے کاغذ اٹھایا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
’’دوسرا بچہ زندہ ہے… اور وہ تمہارے سامنے آنے والا ہے۔‘‘
ماہ نور نے بے اختیار آذر کا ہاتھ تھام لیا۔
دور پہاڑوں کے پیچھے بجلی چمکی۔ حویلی کی کھڑکی میں ایک سایہ نمودار ہوا، پھر فوراً غائب ہو گیا۔
آذر نے مٹھی بھینچ لی۔
’’اب چاہے جو ہو جائے، میں اپنے بھائی کو ڈھونڈ کر رہوں گا۔‘‘
لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ تلاش کرنے نکلا ہے، وہ اس کی زندگی میں پہلے ہی قدم رکھ چکا ہے۔
اور اس شخص کے پاس ایک ایسا راز ہے جو آذر کے دل میں موجود ہر رشتے کو بدل سکتا ہے۔
جاری ہے…
قسط 11 میں
کیا کریم بخش واقعی زندہ ہے؟ زینب بیگم کا دونوں بچوں سے کیا تعلق تھا؟ اور آذر کا گم شدہ بھائی کون ہے، جو برسوں سے اپنی اصل شناخت کے بغیر زندگی گزار رہا ہے؟
Welcome to Our Royal Story Palace
ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت
⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

0 تبصرے