پہاڑوں کی دلہن|قسط 15: مہرالنساء کہاں ہے؟
حویلی کے بڑے دروازے پر کھڑا وہ شخص جسے دنیا بارہ سال پہلے مردہ سمجھ چکی تھی، آج اپنی آنکھوں سے اپنے تینوں ممکنہ وارثوں کو دیکھ رہا تھا۔
نواب فرید شاہ!
ماہ نور کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔ آذر کے چہرے پر غصہ تھا، زایان کی آنکھوں میں حیرت، جبکہ رخشندہ کے ہونٹ خوف سے کانپ رہے تھے۔
نواب فرید شاہ نے آہستہ سے اپنی شیروانی کی جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔
تصویر میں تین نومولود بچے تھے۔
’’بارہ سال نہیں،‘‘ اس نے بھاری آواز میں کہا، ’’پورے اٹھارہ سال سے میں اس لمحے کا انتظار کر رہا ہوں۔ آج اس حویلی کا ہر جھوٹ دفن ہوگا اور ہر سچ سامنے آئے گا۔‘‘
آذر ایک قدم آگے بڑھا۔
’’اگر آپ واقعی ہمارے باپ ہیں تو بتائیے، ان بارہ سالوں میں کہاں تھے؟ اور اگر آپ زندہ تھے تو اپنی اولاد کو بے یارومددگار کیوں چھوڑ دیا؟‘‘
نواب فرید شاہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے درد ابھرا، مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
’’کیونکہ جس دن میں واپس آتا، تم تینوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی۔‘‘
زایان نے تلخی سے ہنستے ہوئے کہا، ’’اور اب خطرہ ختم ہو گیا؟ یا آپ کو اپنی جائیداد کے وارث یاد آ گئے ہیں؟‘‘
نواب نے زایان کی طرف دیکھا۔
’’تمہیں ابھی تک لگتا ہے کہ یہ سب دولت کے لیے ہو رہا ہے؟ کاش بات صرف دولت کی ہوتی!‘‘
اس نے تصویر ماہ نور کی طرف بڑھا دی۔
ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے تصویر پکڑی۔ تینوں بچوں کے چہروں کو غور سے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
’’یہ تصویر… مجھے پہلے بھی دکھائی گئی تھی۔ مگر اس میں ایک بات مختلف تھی۔‘‘
رخشندہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
’’ماہ نور، وہ تصویر مجھے دو!‘‘
ماہ نور نے پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔
’’نہیں! اب ہر چیز کا جواب ملے گا۔ آپ کہتی ہیں میں آپ کی بیٹی ہوں، مگر آپ نے مجھے بچپن میں کیوں چھوڑ دیا؟ میری پرورش کسی اور کے حوالے کیوں کی؟ اور مہرالنساء کون ہیں؟‘‘
مہرالنساء کا نام سنتے ہی نواب فرید شاہ کے ہاتھ سے چھڑی تقریباً چھوٹ گئی۔
آذر نے یہ حرکت دیکھ لی۔
’’ابا جان، آپ مہرالنساء کو جانتے ہیں؟‘‘
نواب نے جواب دینے کے بجائے حویلی کے اندرونی حصے کی طرف دیکھا۔
’’وہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے بے چینی سے پوچھا۔
رخشندہ نے نظریں جھکا لیں۔
’’وہ… وہ تو برسوں پہلے حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔‘‘
’’جھوٹ!‘‘ نواب کی آواز پورے ہال میں گونج اٹھی۔
وہ پہلی بار اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا۔
’’مہرالنساء حویلی چھوڑ کر نہیں گئی تھی۔ اسے یہاں سے غائب کیا گیا تھا!‘‘
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
ماہ نور کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
’’غائب؟ کس نے؟‘‘
نواب نے رخشندہ کی طرف دیکھا، مگر اس بار اس کی آنکھوں میں غصے سے زیادہ دکھ تھا۔
’’اس سوال کا جواب صرف ایک شخص دے سکتا ہے… اور وہ شخص آج بھی اسی حویلی میں موجود ہے۔‘‘
سب کی نظریں ایک دوسرے کے چہروں پر دوڑنے لگیں۔
اچانک اوپر والی منزل سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔
چھن!
جیسے شیشے کا کوئی برتن ٹوٹا ہو۔
زایان فوراً سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔ آذر اس کے پیچھے تھا۔ ماہ نور بھی ان دونوں کے ساتھ اوپر پہنچ گئی۔
راہداری کے آخری کمرے کا دروازہ آدھا کھلا تھا۔
یہ وہی کمرہ تھا جسے برسوں سے بند رکھا گیا تھا۔
دروازہ کھولتے ہی انہیں کمرے کے فرش پر ایک پرانی ڈائری، ٹوٹا ہوا شیشہ اور خون کے چند قطرے نظر آئے۔
ماہ نور نے ڈائری اٹھائی۔
اس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا:
’’اگر یہ ڈائری کبھی ماہ نور تک پہنچے تو اسے بتا دینا کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ اس کی پیدائش کے دن بولا گیا تھا۔‘‘
ماہ نور کے ہاتھ لرزنے لگے۔
اس نے اگلا صفحہ کھولا۔
’’تین بچے پیدا ہوئے تھے، مگر ان میں سے ایک کو دنیا سے چھپانا ضروری تھا۔ کیونکہ اصل وارث کی شناخت ظاہر ہوتے ہی نواب خاندان کی بنیادیں ہل جاتیں۔‘‘
آذر نے ڈائری اس کے ہاتھ سے لے لی۔
’’آگے پڑھو!‘‘
Read Also 👇
🤰 Best Foods to Eat During Pregnancy: A Trimester-by-Trimester Nutrition GuideHealthy food choices for a healthier pregnancy and growing baby
اگلے صفحے پر ایک نام لکھا تھا۔
**مہرالنساء۔**
اور اس کے نیچے ایک جملہ:
’’میں نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے اسے اس کی ماں سے دور کیا۔ مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ جس عورت کے حوالے میں نے اسے کیا ہے، وہی ایک دن اس کی زندگی کا سب سے بڑا راز بن جائے گی۔‘‘
ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’یہ کیا مطلب ہے؟ کیا مہرالنساء میری ماں ہیں؟‘‘
نواب فرید شاہ دروازے پر آ کھڑا ہوا۔
اس نے ڈائری دیکھی تو اس کے چہرے پر ایسا صدمہ ابھرا جیسے اس کا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہو گیا ہو۔
’’یہ ڈائری یہاں نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘
آذر نے فوراً پوچھا، ’’کیوں؟ اس میں ایسا کیا لکھا ہے جس سے آپ ڈر رہے ہیں؟‘‘
نواب نے ڈائری کے آخری صفحات پلٹے۔ ایک جگہ کاغذ پھٹا ہوا تھا، جیسے کسی نے جان بوجھ کر اہم تحریر نکال دی ہو۔
’’کیونکہ اس کا آخری صفحہ بتاتا تھا کہ تیسرے بچے کو کس کے حوالے کیا گیا تھا۔‘‘
ماہ نور نے بے بسی سے پوچھا، ’’اور وہ بچہ کون تھا؟‘‘
نواب نے جواب دیا، ’’یہی تو وہ راز ہے جس نے ہم سب کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا۔‘‘
اسی لمحے زایان کو فرش پر ایک چھوٹی سی چابی نظر آئی۔ اس نے چابی اٹھائی تو اس کے ساتھ بندھا ہوا کاغذ کھل گیا۔
اس پر صرف ایک جگہ کا نام لکھا تھا:
**پرانا پہاڑی مکان۔**
اور نیچے درج تھا:
’’مہرالنساء زندہ ہے۔ اسے تلاش کرنا ہے تو آج رات بارہ بجے اکیلے آنا۔ کسی پر بھروسا مت کرنا، اپنے باپ پر بھی نہیں۔‘‘
زایان نے کاغذ آذر کو دکھایا۔
آذر کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
’’یہ ہمیں وہاں بلانے کے لیے جال بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
ماہ نور نے فوراً کہا، ’’اگر مہرالنساء زندہ ہیں تو میں ضرور جاؤں گی۔ چاہے وہاں موت ہی کیوں نہ میرا انتظار کر رہی ہو۔‘‘
نواب نے سختی سے اس کا بازو پکڑ لیا۔
’’تم کہیں نہیں جاؤ گی!‘‘
ماہ نور نے پہلی بار اپنے باپ سمجھے جانے والے اس شخص کے سامنے مزاحمت کی۔
Read Also 👇
💊 Bextrin Tablets: Uses, Dosage, Side Effects and PrecautionsComplete Medicine Guide | Benefits, Safety and Important Information
’’آپ مجھے روک نہیں سکتے۔ میری پوری زندگی دوسروں کے فیصلوں کی نذر ہو گئی۔ اب میں اپنی ماں کو خود تلاش کروں گی۔‘‘
نواب کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’تمہیں اندازہ نہیں کہ تم کس کے پیچھے جا رہی ہو۔‘‘
’’تو پھر مجھے بتا دیجیے!‘‘
نواب خاموش رہا۔
یہ خاموشی ماہ نور کے لیے ہر جواب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
رات گہری ہونے لگی۔ حویلی کے ہر کمرے میں خوف اور شک کا پہرہ تھا۔ رخشندہ اپنے کمرے میں بند تھی، آذر کسی نامعلوم نمبر پر فون کر رہا تھا، جبکہ زایان نے چپکے سے پرانی گاڑی کی چابی اٹھا لی تھی۔
رات گیارہ بج کر پچاس منٹ پر ماہ نور اپنے کمرے سے نکلی۔
مگر سیڑھیوں کے پاس پہنچتے ہی کسی نے اس کا راستہ روک لیا۔
رخشندہ!
’’تم وہاں نہیں جا سکتیں، ماہ نور۔‘‘
ماہ نور نے حیرت سے پوچھا، ’’آپ مجھے کیوں روک رہی ہیں؟ کیا آپ جانتی ہیں کہ مہرالنساء کہاں ہیں؟‘‘
رخشندہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’کیونکہ اگر تم نے انہیں دیکھ لیا تو تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے نفرت کرنے لگو گی۔‘‘
’’آپ نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟‘‘
رخشندہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’میں نے تمہیں جنم نہیں دیا تھا، ماہ نور…‘‘
ماہ نور کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
رخشندہ نے روتے ہوئے بات مکمل کی۔
’’میں نے تمہیں صرف پالا تھا۔ جس عورت نے تمہیں جنم دیا، وہ میری بہن تھی۔ اس کا نام مہرالنساء تھا۔‘‘
ماہ نور کے لبوں سے بے اختیار نکلا، ’’کیا؟‘‘
رخشندہ نے سر جھکا لیا۔
’’اور تمہیں اس سے جدا کرنے کا فیصلہ میں نے اکیلے نہیں کیا تھا۔ نواب فرید شاہ بھی اس راز میں شریک تھے۔‘‘
ماہ نور پیچھے ہٹ گئی۔
اسی لمحے حویلی کے مرکزی دروازے پر تین زور دار دستکیں ہوئیں۔
سب چونک اٹھے۔
ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کانپتی آواز میں کہا، ’’نواب صاحب! دروازے پر ایک عورت کھڑی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ وہ مہرالنساء ہے۔‘‘
ماہ نور کا دل جیسے رک گیا۔
Read Also 👇
🍽️ Fattening Foods: High-Calorie Foods That May Cause Weight GainUnderstand calorie-dense foods, portion sizes, healthy choices and smarter eating habits.
رخشندہ کے ہاتھ سے شمع گر کر بجھ گئی۔
نواب فرید شاہ تیزی سے نیچے آیا اور دروازہ کھولنے کا حکم دیا۔
دروازہ کھلا۔
سامنے سیاہ چادر میں لپٹی ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر وقت کے گہرے نشان تھے، مگر اس کی آنکھیں ماہ نور جیسی تھیں۔
عورت نے آہستہ سے چادر ہٹائی۔
’’فرید…‘‘ اس کی آواز لرز رہی تھی۔ ’’میں اپنی بیٹی کو لینے آئی ہوں۔‘‘
ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’امی…؟‘‘
عورت نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر اسی لمحے آذر نے اس کا راستہ روک لیا۔
’’ایک منٹ! اگر آپ واقعی مہرالنساء ہیں تو اس سوال کا جواب دیں۔ تیسرے بچے کو کس کے حوالے کیا گیا تھا؟‘‘
عورت کا چہرہ اچانک سفید پڑ گیا۔
اس نے نواب فرید شاہ کی طرف دیکھا، پھر آذر اور زایان کی طرف۔
آخرکار اس نے ایسی بات کہی جس نے سب کو پتھر کا بنا دیا۔
’’تیسرا بچہ… ماہ نور نہیں ہے۔‘‘
ماہ نور کے ہاتھ سے ڈائری گر گئی۔
عورت نے کانپتی انگلی سے زایان کی طرف اشارہ کیا۔
’’تیسرا وارث زایان بھی نہیں… بلکہ وہ شخص ہے جسے تم سب نے بارہ سال پہلے اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا تھا۔‘‘
نواب فرید شاہ کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔
اور حویلی کے باہر اندھیرے میں کھڑا ایک شخص مسکرایا۔
اس کے ہاتھ میں وہی تصویر تھی جس میں تین نومولود بچے تھے۔
اس نے تصویر کے پیچھے لکھا نام پڑھا اور سرگوشی کی:
’’اب وقت آ گیا ہے کہ اصل وارث واپس آئے… اور ان سب کو معلوم ہو کہ ان کا باپ کون ہے۔‘‘
**جاری ہے…**
قسط 16 میں: کیا مہرالنساء واقعی ماہ نور کی ماں ہیں؟ زایان کا تیسرے وارث سے کیا تعلق ہے؟ اور وہ شخص کون ہے جسے سب مردہ سمجھتے تھے؟
Welcome to Our Royal Story Palace
ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت
⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

0 تبصرے