پہاڑوں کی دلہن ❤️
قسط چہارم — ڈائری کا آخری صفحہ
تحریر: Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط چہارم ❤️📖 ڈائری کا آخری صفحہ
ماہ نور اور آزر شاہ کی محبت، ایک پراسرار ڈائری، پرانے خاندانی راز اور ایک ایسا انکشاف جو سب کچھ بدل سکتا ہے۔
✍️ Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
ایک ایسی رات، جس نے سب بدل دیا
شاہ حویلی کے باہر پہاڑوں پر دھند اتر رہی تھی۔ سرد ہوا کھڑکیوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی آواز پیدا کر رہی تھی، جیسے کوئی برسوں سے بند دروازے کے پیچھے کھڑا اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہو۔
ماہ نور کے ہاتھ میں وہ پرانا خط تھا جس کے الفاظ اس کی ماں کی یادوں سے جڑے ہوئے تھے۔
اس نے نظریں اٹھا کر سردار آزر شاہ کو دیکھا۔
”آپ اس عورت کو جانتے ہیں؟“ اس کی آواز دھیمی تھی، لیکن اس میں چھپا درد آزر سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔
آزر نے جواب دینے کے بجائے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔
”ماہ نور، کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جاننے کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔“
ماہ نور کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔
”اور کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں چھپانے سے انسان دوسروں کی زندگی برباد کر دیتا ہے۔ آپ مجھے کس چیز سے بچانا چاہتے ہیں، آزر شاہ؟ سچ سے یا اپنی ذات سے؟“
آزر خاموش رہا۔
اس خاموشی نے ماہ نور کے دل میں ایک نیا خوف پیدا کر دیا۔
”میں نے آپ پر بھروسا کیا تھا،“ اس نے لرزتی آواز میں کہا، ”لیکن اب مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آپ میرے محافظ ہیں یا میری زندگی کے سب سے بڑے راز کا حصہ۔“
وہ خط میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔
آزر نے اسے روکنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر پھر ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
وہ جانتا تھا کہ اس بار اگر اس نے ماہ نور کو روکا تو شاید وہ ہمیشہ کے لیے اس کا بھروسا کھو دے گا۔
حویلی کے بند کمرے کا راز
ماہ نور راہداری سے گزر رہی تھی کہ اس کی نظر دیوار پر لٹکی ایک پرانی تصویر پر پڑی۔
تصویر میں ایک نوجوان عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی اور آنکھوں میں وہی گہرائی تھی جو ماہ نور نے اپنی ماں کی پرانی تصویروں میں دیکھی تھی۔
تصویر کے نیچے چھوٹے حروف میں ایک نام لکھا تھا:
زریں شاہ — 1998
ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔
”زریں شاہ؟“
یہ نام اس نے پہلے بھی کہیں سنا تھا۔ اسے یاد آیا کہ بچپن میں اس کی ماں کبھی نیند میں یہ نام پکارا کرتی تھیں۔ جب ماہ نور پوچھتی تو وہ فوراً موضوع بدل دیتیں۔
اس نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ زریں شاہ کے گلے میں ایک چھوٹا سا لاکٹ تھا، جس کے درمیان چاند کی شکل بنی ہوئی تھی۔
ماہ نور نے بے اختیار اپنے گلے کو چھوا۔
اس کے اپنے لاکٹ پر بھی ایسا ہی چاند بنا تھا۔
یہ لاکٹ اس کی ماں نے اسے بچپن میں دیا تھا اور ہمیشہ کہا تھا کہ اسے کبھی اپنے سے جدا نہ کرنا۔
”یہ کیسے ممکن ہے؟“ اس نے سرگوشی کی۔
اسی وقت پیچھے سے کسی کے قدموں کی آواز آئی۔
”کیونکہ اس حویلی میں تمہارے آنے سے پہلے بھی تمہاری کہانی لکھی جا چکی تھی۔“
ماہ نور پلٹی۔
سامنے وہی پراسرار عورت کھڑی تھی جو کچھ دیر پہلے حویلی کے دروازے پر آئی تھی۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی اور چہرے پر برسوں کی تھکن۔
”آپ کون ہیں؟“ ماہ نور نے پوچھا۔
عورت نے چند قدم آگے بڑھائے۔
”میرا نام زریں شاہ ہے۔“
ماہ نور کے ہاتھ سرد پڑ گئے۔
”لیکن آپ کی تصویر تو بہت پرانی ہے۔“
زریں نے اداس مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ”کچھ تصویریں وقت میں پرانی ہو جاتی ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپی کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔“
ڈائری کا آخری صفحہ
زریں ماہ نور کو حویلی کے اس حصے میں لے گئی جہاں عام طور پر کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔
کمرے کے دروازے پر زنگ آلود تالا لگا تھا۔ زریں نے اپنی چادر کے اندر سے ایک چھوٹی سی چابی نکالی اور تالا کھول دیا۔
کمرے میں پرانی کتابوں، لکڑی اور بند الماریوں کی مخصوص بو پھیلی ہوئی تھی۔
ایک کونے میں لکڑی کا صندوق رکھا تھا۔
زریں نے صندوق کھولا تو اس میں سے ایک پرانی ڈائری نکالی۔ اس کے سرورق پر سنہری حروف میں صرف ایک لفظ لکھا تھا:
ماہ نور
”یہ کس کی ڈائری ہے؟“ ماہ نور نے پوچھا۔
”تمہاری ماں کی۔“
ماہ نور کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے ڈائری کو ایسے تھاما جیسے برسوں بعد اسے اپنی ماں کا ہاتھ مل گیا ہو۔
اس نے صفحات پلٹنے شروع کیے۔ کئی صفحات پر وقت کے داغ تھے، کچھ جگہوں پر سیاہی پھیل چکی تھی، مگر آخری چند صفحات حیرت انگیز طور پر محفوظ تھے۔
ایک صفحے پر لکھا تھا:
”اگر میری بیٹی کبھی شاہ حویلی پہنچے تو اسے سچ ضرور بتانا۔ وہ اس خاندان کی دشمن نہیں، مگر اس خاندان کے گناہ اس کی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ آزر کو سب معلوم ہے۔“
ماہ نور کی سانس رک گئی۔
اس نے اگلی سطر پڑھی۔
”اسے بتانا کہ اس کے والد کی موت ایک حادثہ نہیں تھی۔ اور اس رات جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ آج تک پورا نہیں ہوا۔“
”میرے والد؟“ ماہ نور کی آواز ٹوٹ گئی۔ ”میری ماں نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ ان کی موت کے پیچھے کوئی راز تھا۔“
زریں نے نظریں جھکا لیں۔
”تمہاری ماں تمہیں اس دنیا کے اندھیروں سے دور رکھنا چاہتی تھی۔“
”اور آزر؟ اسے کیا معلوم ہے؟“
زریں نے جواب دینے سے پہلے گہری سانس لی۔
”آزر کے والد اس رات وہاں موجود تھے۔“
ماہ نور کے ہاتھ سے ڈائری تقریباً چھوٹ گئی۔
”نہیں۔ آزر ایسا نہیں کر سکتا۔“
”میں نے یہ نہیں کہا کہ آزر نے کچھ کیا تھا،“ زریں نے نرمی سے کہا، ”میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ اس کے خاندان کے پاس وہ سچ ہے جس کی تم تلاش کر رہی ہو۔“
ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید اس کی زندگی کے تمام راستے اسی حویلی کی طرف آتے تھے۔
اور شاید آزر شاہ سے اس کی ملاقات محض اتفاق نہیں تھی۔
محبت اور سچ کے درمیان
ماہ نور ڈائری لے کر واپس مرکزی ہال میں آئی تو آزر وہیں کھڑا تھا۔
اس کی نظریں فوراً ڈائری پر جا ٹھہریں۔
”تمہیں یہ کہاں سے ملی؟“
”اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟“ ماہ نور نے جواب دیا۔ ”اصل بات یہ ہے کہ اس میں میرا ماضی لکھا ہے، اور آپ کا نام بھی۔“
آزر نے ڈائری کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر ماہ نور نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
”نہیں۔ اب کوئی مجھ سے میرا سچ نہیں چھپائے گا۔“
”ماہ نور، میری بات سنو۔“
”میں نے بہت سن لیا، آزر شاہ۔ اب صرف سچ سننا چاہتی ہوں۔ کیا آپ جانتے تھے کہ میرے والد کی موت کے پیچھے کوئی راز ہے؟“
آزر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اس کی خاموشی ہی ماہ نور کے لیے کافی تھی۔
”آپ جانتے تھے،“ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ ”آپ کو پہلے سے معلوم تھا۔“
”مجھے مکمل حقیقت معلوم نہیں تھی،“ آزر نے کہا، ”لیکن میں جانتا تھا کہ اس رات کے بارے میں میرے والد نے ہمیشہ جھوٹ بولا۔“
”اور پھر بھی آپ نے مجھے کچھ نہیں بتایا؟“
”میں ثبوت کے بغیر تمہیں ایک ایسے سچ کی طرف نہیں دھکیلنا چاہتا تھا جو تمہیں توڑ دیتا۔“
ماہ نور نے آنسو پونچھے۔
”مجھے توڑنے کا فیصلہ آپ کون ہوتے ہیں؟ میں کمزور نہیں ہوں، آزر۔ میں صرف یہ چاہتی تھی کہ جس شخص پر میرا دل بھروسا کرنے لگا ہے، وہ مجھ سے جھوٹ نہ بولے۔“
آزر کی آنکھوں میں درد اتر آیا۔
”تمہیں اندازہ نہیں کہ تم میرے لیے کیا ہو۔“
”تو پھر مجھے یہ ثابت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے کہ میں سچ جاننے کا حق رکھتی ہوں؟“
آزر کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
ماہ نور نے ڈائری بند کی۔
”جب تک آپ مجھے پوری حقیقت نہیں بتائیں گے، میرے لیے آپ کی محبت پر یقین کرنا ممکن نہیں۔“
وہ وہاں سے چلی گئی۔
اس بار آزر نے اسے نہیں روکا۔
لیکن اس کے چہرے پر ایک ایسا فیصلہ ابھر آیا تھا جو شاید برسوں سے اس کے اندر قید تھا۔
ایک پرانا وعدہ
رات گئے آزر اپنے والد کے کمرے میں داخل ہوا۔
کمرہ برسوں سے تقریباً ویسا ہی تھا۔ بھاری پردے، لکڑی کی میز، دیوار پر لگی شکار کی پرانی تصویریں اور میز کے نیچے رکھا ہوا لوہے کا صندوق۔
آزر نے صندوق کھولا۔
اندر چند دستاویزات، ایک پرانی تصویر اور مہر بند لفافہ موجود تھا۔
تصویر میں دو مرد ایک پہاڑی سڑک کے کنارے کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک آزر کا والد تھا۔
دوسرا ماہ نور کا والد۔
تصویر کے پیچھے ایک جملہ لکھا تھا:
”اس رات کا وعدہ ہماری اگلی نسلوں کی تقدیر بدل دے گا۔“
آزر نے لفافہ کھولا۔
خط میں لکھا تھا کہ برسوں پہلے ایک خوفناک حادثے کے بعد دونوں خاندانوں نے ایک راز چھپانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن خط میں اصل واقعے کی تفصیل موجود نہ تھی۔ صرف اتنا درج تھا کہ ماہ نور کے والد کی موت کے بعد ان کی بیٹی کی حفاظت کی ذمہ داری شاہ خاندان پر ہوگی۔
آزر نے خط کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
”اب بہت ہو گیا، ابا جان۔“
اس نے پہلی بار اپنے والد کی یاد کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ان کے فیصلوں کا حساب مانگنے کا ارادہ کیا۔
مگر ابھی وہ خط پڑھ ہی رہا تھا کہ اسے لفافے کے اندر ایک اور کاغذ ملا۔
اس پر صرف ایک نام لکھا تھا:
سردار حماد شاہ
یہ نام آزر کے چچا کا تھا، جو کئی برس پہلے اچانک پہاڑوں سے غائب ہو گئے تھے۔
آزر کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح چمکا۔
اگر اس کے چچا زندہ تھے، تو شاید وہ اس رات کی حقیقت جانتے تھے۔
ایک فون کال، ایک نیا خطرہ
اگلی صبح ماہ نور حویلی کے باغ میں بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے ڈائری کھلی تھی، مگر وہ ایک لفظ بھی پڑھ نہیں پا رہی تھی۔
اس کا دل آزر سے ناراض تھا، لیکن اس کے دل کا ایک حصہ اب بھی اس کی آواز سننے کو بے قرار تھا۔
تبھی اس کے فون پر ایک نامعلوم نمبر سے پیغام آیا۔
”اگر اپنے والد کی موت کا سچ جاننا چاہتی ہو تو آج رات پرانی پہاڑی مسجد کے پیچھے آنا۔ اکیلی۔ آزر شاہ پر بھروسا مت کرنا۔“
ماہ نور نے پیغام دوبارہ پڑھا۔
اس کے اندر خوف اور تجسس دونوں جاگ اٹھے۔
کیا یہ شخص واقعی اس کی مدد کرنا چاہتا تھا، یا اسے کسی جال میں پھنسایا جا رہا تھا؟
اس نے فوراً آزر کو بتانے کا سوچا، مگر پھر گزشتہ رات کی گفتگو یاد آ گئی۔
”اگر وہ مجھ سے سچ چھپا سکتا ہے، تو شاید اس بار مجھے خود ہی جواب تلاش کرنا ہوگا۔“
اس نے پیغام حذف نہیں کیا۔ صرف وقت دیکھا۔
رات کے نو بجے۔
اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ جائے گی۔
لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ حویلی کی بالائی منزل پر کھڑا ایک شخص اس کی ہر حرکت دیکھ رہا تھا۔
اور اس شخص کے ہاتھ میں بھی ایک فون تھا۔
”وہ آج رات وہاں پہنچ جائے گی،“ اس نے کسی سے کہا۔ ”اب دیکھتے ہیں کہ اسے سچ ملتا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموشی۔“
پہاڑی مسجد کے پیچھے
رات کے نو بجے ماہ نور نے گرم شال اوڑھی اور خاموشی سے حویلی سے باہر نکل گئی۔
پہاڑی راستہ سنسان تھا۔ دور کہیں پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی اور درختوں کے سائے زمین پر عجیب شکلیں بنا رہے تھے۔
وہ پرانی مسجد کے پیچھے پہنچی تو وہاں ایک لالٹین جل رہی تھی۔
”کون ہے؟“ اس نے آواز دی۔
چند لمحوں بعد ایک آدمی اندھیرے سے باہر آیا۔ اس کا چہرہ آدھا شال سے ڈھکا ہوا تھا۔
”تم ماہ نور ہو؟“
”جی۔ آپ نے میرے والد کے بارے میں پیغام بھیجا تھا؟“
آدمی نے جیب سے ایک چھوٹا سا لفافہ نکالا۔
”اس میں وہ تصویر ہے جسے تمہارے خاندان نے چھپانے کی کوشش کی۔ اسے دیکھنے کے بعد تمہیں سمجھ آ جائے گا کہ تمہارے والد کی موت کے بعد سب کچھ کیوں بدل گیا تھا۔“
ماہ نور نے لفافہ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
اسی لمحے پیچھے سے گاڑی کی تیز روشنی ان دونوں پر پڑی۔
ایک گاڑی سڑک کے کنارے آ کر رکی۔
دروازہ کھلا۔
سردار آزر شاہ باہر نکلا۔
”ماہ نور! پیچھے ہٹو!“
ماہ نور چونک گئی۔
”آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟“
آزر نے اس آدمی کی طرف دیکھا۔
”کیونکہ یہ تمہیں سچ بتانے نہیں، خطرے میں ڈالنے آیا ہے۔“
اجنبی نے ہنس کر کہا، ”اور تم؟ تم تو اسے برسوں سے سچ سے دور رکھے ہوئے ہو، سردار صاحب۔“
آزر کی آنکھیں سخت ہو گئیں۔
”حماد چچا، بہت ہو گیا۔“
ماہ نور کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
حماد شاہ!
وہی نام جو آزر کے والد کے صندوق میں ملنے والے خط پر لکھا تھا۔
اجنبی نے آہستہ آہستہ اپنے چہرے سے شال ہٹائی۔
وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھا، جس کے چہرے پر وقت اور تنہائی کے گہرے نشان تھے۔
”تم نے مجھے پہچان لیا، آزر۔ مگر کیا تم ماہ نور کو بھی پہچانتے ہو؟“
ماہ نور نے بے یقینی سے دونوں کو دیکھا۔
”آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟“
حماد شاہ نے جواب دیا، ”ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں، بیٹی۔ لیکن تم ابھی تک یہ نہیں جانتیں کہ تم اس خاندان کے لیے اتنی اہم کیوں ہو۔“
اس نے لفافہ ماہ نور کی طرف بڑھا دیا۔
آزر نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔
”اسے دیکھ لو، ماہ نور،“ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ ”شاید اب سچ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں۔“
ماہ نور نے لفافہ کھولا۔
اندر ایک تصویر تھی۔
تصویر میں اس کی ماں، اس کے والد، آزر کے والد اور حماد شاہ ایک ساتھ کھڑے تھے۔
لیکن تصویر کے درمیان ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی۔
وہ بچی ماہ نور جیسی دکھائی دیتی تھی۔
تصویر کے پیچھے تاریخ لکھی تھی، اور اس کے نیچے ایک جملہ:
”یہ وعدہ صرف دو خاندانوں کے درمیان نہیں، دو بچوں کی زندگیوں کے درمیان بھی ہوا تھا۔“
ماہ نور نے تصویر کو دیکھا، پھر آزر کی طرف۔
”دو بچے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟“
حماد شاہ نے گہری سانس لی۔
”اس کا مطلب ہے کہ تمہاری کہانی اس دن شروع نہیں ہوئی تھی جب تم آزر سے ملی تھیں۔ تم دونوں کی تقدیریں اس سے بہت پہلے ایک دوسرے سے جڑ چکی تھیں۔“
ماہ نور کے قدموں تلے زمین جیسے سرک گئی۔
”کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ میری اور آزر کی شادی کا فیصلہ پہلے سے کیا گیا تھا؟“
حماد شاہ نے جواب دینے کے بجائے آزر کی طرف دیکھا۔
آزر خاموش تھا۔
اور اس خاموشی میں ایک ایسا سچ چھپا تھا جس سے ماہ نور سب سے زیادہ خوف زدہ تھی۔
قسط چہارم کا اختتام
ماہ نور نے تصویر آزر کے سامنے کر دی۔
”میں آپ سے ایک آخری سوال پوچھ رہی ہوں۔ کیا آپ کو پہلے سے معلوم تھا کہ ہمارے خاندانوں نے ہمارے بارے میں کوئی وعدہ کیا تھا؟“
آزر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
”ہاں۔ مجھے اس وعدے کے بارے میں معلوم تھا۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ تمہیں اس وعدے کی حقیقت سے کس حد تک بے خبر رکھا گیا۔“
ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
”تو پھر ہماری ملاقات، آپ کی حفاظت، آپ کی محبت۔۔۔ کیا یہ سب کسی پرانے وعدے کا حصہ تھا؟“
”نہیں، ماہ نور۔ میرا تم سے محبت کرنا میرا اپنا فیصلہ ہے۔ کسی وعدے نے مجھے تم سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کیا۔“
”لیکن مجھے سچ جاننے کا حق تھا۔“
”ہاں،“ آزر نے سر جھکا کر کہا، ”اور میں نے تمہیں یہ حق دینے میں دیر کر دی۔“
ماہ نور نے تصویر اپنے سینے سے لگا لی۔
وہ آزر سے محبت کرنے لگی تھی، مگر اب اسے یہ سمجھنا تھا کہ اس محبت میں اس کی اپنی مرضی کتنی تھی اور خاندانوں کے ماضی کا سایہ کتنا۔
حماد شاہ نے آخری بار دونوں کو دیکھا۔
”اگر تم واقعی پوری حقیقت جاننا چاہتے ہو تو کل صبح پرانی حویلی آنا۔ وہاں تمہیں معلوم ہوگا کہ ماہ نور کے والد کی موت والی رات اصل میں کیا ہوا تھا۔ لیکن یاد رکھنا، سچ سامنے آنے کے بعد شاید تم دونوں ایک دوسرے کا سامنا بھی نہ کر سکو۔“
یہ کہہ کر وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
ماہ نور اور آزر سڑک کے کنارے خاموش کھڑے رہے۔
پہاڑوں سے ٹھنڈی ہوا گزر رہی تھی، مگر ماہ نور کے دل میں ایک نیا طوفان اٹھ چکا تھا۔
اس نے آزر کی طرف دیکھا۔
”کل میں آپ کے ساتھ آؤں گی۔ لیکن اس بار میں کسی وعدے کے لیے نہیں، اپنے سچ کے لیے آؤں گی۔“
آزر نے سر ہلایا۔
”اور اس بار میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔“
ماہ نور گاڑی کی طرف بڑھی، پھر اچانک رک گئی۔
”آزر؟“
”جی؟“
”اگر کل جو سچ سامنے آئے گا وہ ہماری محبت کے خلاف ہوا تو؟“
آزر نے کچھ دیر اسے دیکھا۔
”تو میں تمہیں روکوں گا نہیں۔ کیونکہ محبت کا مطلب کسی کو اپنے پاس رکھنا نہیں، اسے اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے۔“
ماہ نور کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے نرمی ابھری، مگر اگلے ہی لمحے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
گاڑی پہاڑی راستے پر آگے بڑھنے لگی۔
دور شاہ حویلی کی روشنیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
اور حویلی کے اندر، ایک بند کمرے میں، کسی نے پرانی ڈائری کا ایک اور صفحہ کھولا۔
اس صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
”اصل قاتل وہ نہیں جس پر سب کو شک ہے، بلکہ وہ ہے جسے آج بھی سب اپنا سمجھتے ہیں۔“
جاری ہے۔۔۔
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط پنجم میں
کیا ماہ نور کے والد کی موت کے پیچھے شاہ خاندان کا کوئی فرد ہے؟ حماد شاہ اتنے برس کہاں غائب رہے؟ اور کیا آزر اپنی محبت اور اپنے خاندان کے درمیان کھڑا ہو سکے گا؟
اگلی قسط میں ایک ایسا راز سامنے آئے گا جو محبت، وفاداری اور خون کے رشتوں کی حقیقت بدل دے گا۔
❤️ PAHARON KI DULHAN ❤️
Choose Your Episode
📖 READ PART 1 ➜ 📖 READ PART 2 ➜ 📖 READ PART 3 ➜Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
❤️ پہاڑوں کی دلہن ❤️
📖 قسط پنجم پڑھیںوہ چہرہ جو اپنا تھا
Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
مزید اقساط کے لیے Hearts Where Stay کو فالو کریں۔
Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story ❤️
Welcome to Our Royal Story Palace
ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت
⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

0 تبصرے