Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 13 | تیسری وارث کا راز

 

پہاڑوں کی دلہن قسط 13: تیسری وارث کا راز

پہاڑوں کی دلہن قسط 13 کی تصویر، ماہ نور، آذر اور زایان کے درمیان تین بچوں کی شناخت، اصل ماں اور حویلی کے حقیقی وارث کا پراسرار راز
پہاڑوں کی دلہن قسط 13 — تیسری وارث کا راز۔ تین بچوں کی پراسرار شناخت، ماہ نور کی اصل ماں اور حویلی کے حقیقی وارث کا نیا انکشاف۔ صرف Hearts Where Stay پر — Every Heart Has a Story۔

زینب بیگم کے الفاظ تہہ خانے کی خاموش فضا میں گونج رہے تھے۔

”اب وقت آ گیا ہے کہ تمہیں بتایا جائے کہ اس حویلی کے تین بچوں میں سے اصل وارث کون ہے۔“

آذر نے حیرت سے اپنی ماں سمجھی جانے والی عورت کو دیکھا، پھر زایان کی طرف متوجہ ہوا۔ دونوں بھائیوں کے چہروں پر ایک جیسے سوال تھے، مگر زینب بیگم کی نظریں صرف ماہ نور پر جمی ہوئی تھیں۔

”ماہ نور، میرے قریب آؤ۔“

ماہ نور نے ایک قدم آگے بڑھایا، لیکن اس کے دل میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔

”آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں؟ کیا واقعی میرا تعلق بھی اس راز سے ہے؟“

زینب بیگم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

”تمہارا تعلق ہی نہیں، بیٹی… اس راز کی ابتدا تم سے ہوئی تھی۔“

”لیکن میری ماں تو—“

”تمہیں تمہاری ماں کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا، اس میں آدھا سچ تھا اور آدھا جھوٹ۔“

ماہ نور کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے سکندر شاہ کی طرف دیکھا، مگر وہ خاموش کھڑا تھا۔ کریم بخش نے اپنا سر جھکا لیا، جیسے وہ پہلے ہی جانتا ہو کہ اب کیا ہونے والا ہے۔

آذر نے بے چینی سے کہا، ”کوئی صاف صاف کیوں نہیں بتاتا؟ پہلے دو بچوں کی بات ہوئی، پھر تیسرے بچے کا ذکر آیا، اور اب ماہ نور کی ماں کا راز! آخر اس حویلی میں ہوا کیا تھا؟“

زینب بیگم نے دیوار کے ساتھ رکھی ایک پرانی لکڑی کی میز کی طرف اشارہ کیا۔

”اس میز کے نیچے ایک خفیہ خانہ ہے۔ اسے کھولو۔“

آذر نے میز کو ذرا سا سرکایا تو نیچے لوہے کی ایک چھوٹی سی پلیٹ نظر آئی۔ زایان نے پلیٹ اٹھائی۔ اس کے نیچے ایک خفیہ دراز تھی، جس میں کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک پرانی ڈائری، چاندی کا کڑا اور تین بچوں کے ناموں والا ایک کاغذ رکھا تھا۔

ماہ نور نے کاغذ اٹھایا۔

اس پر تین نام لکھے تھے:

آذر شاہ۔

زایان شاہ۔

اور تیسرے نام کے سامنے سیاہی پھیلی ہوئی تھی، جیسے کسی نے جان بوجھ کر اسے مٹانے کی کوشش کی ہو۔

”یہ تیسرا نام کس کا تھا؟“ ماہ نور نے پوچھا۔

زینب بیگم نے چاندی کا کڑا اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

ماہ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔

”یہ کڑا… میرے پاس بھی بالکل ایسا ہی ایک کڑا ہے!“

اس نے فوراً اپنے دوپٹے کے اندر بندھی چھوٹی سی تھیلی کھولی۔ اس میں سے ایک چاندی کا کڑا نکالا۔ دونوں کڑے ایک دوسرے کے ساتھ رکھے گئے تو ان پر کندہ نشان بالکل ایک جیسے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ایک پر حرف ”م“ اور دوسرے پر حرف ”ز“ لکھا تھا۔

زایان نے آہستہ سے کہا، ”یہ دونوں کڑے ایک ہی خاندان کے بچوں کے لیے بنائے گئے تھے۔“

زینب بیگم نے آنکھیں بند کر لیں۔

”یہ کڑے اس رات بنوائے گئے تھے جب تین بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔“

”تین بچوں کی؟“ آذر نے بے یقینی سے دہرایا۔

”ہاں،“ زینب بیگم نے جواب دیا۔ ”اس رات اس حویلی میں دو نہیں، تین بچے پیدا ہوئے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک بچے کو دنیا سے چھپا دیا گیا۔“

سکندر شاہ نے پہلی بار بلند آواز میں کہا، ”زینب! اب بس کرو۔“

زینب بیگم اس کی طرف پلٹیں۔

”بارہ سال تم نے خاموشی کو وفاداری سمجھا، سکندر شاہ۔ لیکن خاموشی نے ان بچوں سے ان کی پہچان چھین لی۔ اب میں مزید جھوٹ نہیں بولوں گی۔“

سکندر شاہ کی آنکھوں میں غصہ ابھر آیا۔

”تم نہیں جانتیں کہ اگر تیسرا نام سامنے آ گیا تو اس حویلی میں کیا ہو گا!“

”مجھے سب معلوم ہے،“ زینب بیگم نے دوٹوک لہجے میں کہا۔ ”اسی لیے تو آج تک زندہ رہی ہوں۔“

ماہ نور نے ڈائری کھولی۔ پہلے صفحے پر ایک تاریخ درج تھی، اس کے نیچے ایک عورت کے دستخط تھے اور آخر میں لکھا تھا:

”اگر کبھی میرے بچوں کی شناخت کا راز کھلے تو سب سے پہلے اس لڑکی کو حقیقت بتانا جس کے گلے میں چاندی کا نشان ہے۔ وہی اس خاندان کے خون کی آخری گواہ ہے۔“

ماہ نور نے فوراً اپنے گلے کو چھوا۔ اس کے لاکٹ کے پیچھے بھی ایک چھوٹا سا چاندی کا نشان بنا ہوا تھا، جسے وہ بچپن سے پہنتی آئی تھی۔

”یہ لاکٹ مجھے کس نے دیا تھا؟“ اس نے زینب بیگم سے پوچھا۔

زینب بیگم نے جواب دینے کے بجائے ڈائری کا دوسرا صفحہ کھولا۔

اس پر ایک عورت کی تصویر چپکی ہوئی تھی۔ تصویر میں ایک نوجوان عورت تین نوزائیدہ بچوں کو اپنے قریب لیے بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے میں ماہ نور کی آنکھیں اور مسکراہٹ کی جھلک نمایاں تھی۔

ماہ نور کے ہاتھ سے ڈائری تقریباً چھوٹ گئی۔

”یہ عورت کون ہے؟“

زینب بیگم کی آواز ٹوٹ گئی۔

”یہ تمہاری اصل ماں ہے، ماہ نور۔ اس کا نام مہرالنساء تھا۔“

”میری ماں زندہ ہے؟“

کسی نے جواب نہ دیا۔

ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

”مجھے ساری زندگی بتایا گیا کہ میری ماں مجھے پیدا کرتے ہی دنیا سے چلی گئی تھی۔ اگر یہ جھوٹ تھا تو مجھے اس سے دور کیوں رکھا گیا؟“

زینب بیگم نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔

”کیونکہ تمہیں بچانا ضروری تھا۔ تم تینوں بچوں میں وہ واحد بچی تھیں جس کے بارے میں ایک پیش گوئی کی گئی تھی کہ وہ حویلی کے بکھرے ہوئے خاندان کو دوبارہ ایک کرے گی۔ لیکن کچھ لوگوں کو یہ خوف تھا کہ تمہارے سامنے آنے سے ان کی حقیقت بھی سامنے آ جائے گی۔“

آذر نے ڈائری اپنی طرف کھینچی اور آخری صفحہ کھولا۔

اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:

”تیسرا بچہ وہ نہیں جسے تم ڈھونڈ رہے ہو، بلکہ وہ ہے جسے تم سب برسوں سے اپنے درمیان دیکھتے آئے ہو۔“

سب کی نظریں بے اختیار ایک دوسرے کی طرف اٹھ گئیں۔

کریم بخش کے چہرے پر خوف چھا گیا۔ سکندر شاہ نے مٹھی بھینچ لی، جبکہ زایان نے ماہ نور کو غور سے دیکھا۔

”اس کا مطلب ہے…“ زایان نے دھیمی آواز میں کہا، ”کہ تیسرا بچہ کوئی اجنبی نہیں۔“

اسی لمحے تہہ خانے کے باہر زور سے دروازہ بجا۔

”زینب بیگم! دروازہ کھولیے!“

یہ حویلی کے پرانے ملازم رحمت کی آواز تھی۔

سکندر شاہ نے فوراً دروازے کی طرف قدم بڑھائے، مگر زینب بیگم نے اسے روک دیا۔

”دروازہ مت کھولنا۔“

رحمت کی آواز پھر سنائی دی۔

”بیگم صاحبہ، جلدی کیجیے! مہرالنساء واپس آ گئی ہیں!“

ماہ نور کے ہاتھ سے ڈائری گر گئی۔

”مہرالنساء… میری ماں؟“

زینب بیگم کے چہرے پر خوشی اور خوف دونوں ایک ساتھ ابھر آئے۔

پھر دروازے کے دوسری طرف سے ایک عورت کی آواز آئی۔

”ماہ نور! میری بچی، میں تمہیں لینے آئی ہوں۔“

ماہ نور ایک قدم دروازے کی طرف بڑھی، لیکن سکندر شاہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

”کوئی بھی دروازہ نہیں کھولے گا!“

”آپ مجھے میری ماں سے نہیں روک سکتے!“ ماہ نور چیخی۔

سکندر شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، ”اگر تم نے یہ دروازہ کھولا تو تمہیں اپنی ماں مل جائے گی، لیکن شاید تم اپنے دونوں بھائیوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دو گی۔“

آذر اور زایان ایک ساتھ آگے بڑھے۔

”ہمیں سچ جاننے سے کوئی نہیں روک سکتا،“ آذر نے کہا۔

زینب بیگم نے چابی آذر کے ہاتھ میں رکھ دی۔

”دروازہ کھولو۔ اب فیصلہ یہ بچے خود کریں گے کہ انہیں کس پر یقین کرنا ہے۔“

آذر نے چابی تالے میں گھمائی۔

دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔

سامنے سیاہ شال میں لپٹی ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بارہ سال کی جدائی کا درد تھا۔ اس نے ماہ نور کو دیکھا تو اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔

”میری بچی…“

ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ عورت کی طرف بڑھنے ہی والی تھی کہ زایان نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”رکو!“

سب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

زایان کی نگاہ عورت کے چہرے پر جمی ہوئی تھی۔

”یہ مہرالنساء نہیں ہے۔“

عورت کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

زایان نے اپنی جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی اور اس عورت کے سامنے کر دی۔

”میں نے اپنی ماں کو تصویر میں نہیں، حقیقت میں دیکھا ہے۔ میں اس کے چہرے کو پہچانتا ہوں۔ تم کون ہو؟“

عورت چند لمحے خاموش رہی، پھر اس نے اپنی شال ہٹا دی۔

اس کے چہرے پر ایک ایسا نشان تھا جسے دیکھتے ہی سکندر شاہ کے منہ سے بے اختیار نکلا:

”تم… یہاں کیسے پہنچ گئیں؟“

عورت نے سرد مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

”میں وہ ہوں جسے تم سب نے بارہ سال پہلے دفن کر دیا تھا۔ اور اب میں تمہیں بتانے آئی ہوں کہ اس حویلی کا اصل وارث آذر یا زایان نہیں…“

اس نے ماہ نور کی طرف دیکھا۔

”بلکہ وہ شخص ہے جس کا نام تم نے اس رجسٹر سے مٹایا تھا۔“

جاری ہے…

قسط 14 میں: نقلی مہرالنساء کون ہے؟ اصل وارث کا نام کس نے مٹایا، اور سکندر شاہ کس حقیقت سے خوف زدہ ہے؟


♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے