Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 14 | اصل وارث کون ہے؟

 پہاڑوں کی دلہن|قسط 14: اصل وارث کون ہے؟

پہاڑوں کی دلہن قسط 14 کی تصویر، ماہ نور، آذر، زایان اور رخشندہ کے درمیان حویلی کے اصل وارث اور تین بچوں کی شناخت کا پراسرار راز
پہاڑوں کی دلہن قسط 14 — اصل وارث کون ہے؟ رخشندہ کی پراسرار واپسی، ماہ نور کی شناخت اور حویلی کے تیسرے وارث کا راز۔ پڑھیے صرف Hearts Where Stay پر — Every Heart Has a Story۔

”میں وہ ہوں جسے تم سب نے بارہ سال پہلے دفن کر دیا تھا۔“


عورت کے یہ الفاظ سنتے ہی تہہ خانے میں کھڑے ہر شخص کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ برسوں سے اس لمحے کا انتظار کر رہی ہو۔


سکندر شاہ نے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے سرگوشی کی، ”یہ ناممکن ہے… تم زندہ نہیں ہو سکتیں۔“


عورت ہنس دی۔


”موت کی خبر پھیلانا آسان ہوتا ہے، سکندر شاہ۔ مگر کسی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا آسان نہیں۔“


ماہ نور نے آذر کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ”یہ عورت کون ہے؟ اور اسے ہمارے خاندان کے بارے میں اتنا سب کچھ کیسے معلوم ہے؟“


عورت نے ماہ نور کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے نرمی ابھری، لیکن فوراً غصے نے اس کی جگہ لے لی۔


”میرا نام رخشندہ ہے۔ کبھی اس حویلی کے ہر دروازے کی چابی میرے پاس ہوا کرتی تھی۔ میں اس خاندان کی وہ فرد ہوں جسے تم لوگوں نے تاریخ سے مٹا دیا۔“

زینب بیگم کے ہونٹ کانپنے لگے۔


”رخشندہ… تمہیں تو سب نے مردہ سمجھ لیا تھا۔“


”کیونکہ تم سب نے یہی چاہا تھا!“ رخشندہ کی آواز بلند ہو گئی۔ ”بارہ سال پہلے جب تین بچوں کی پیدائش ہوئی، تم نے ایک بچے کو وارث بنایا، دوسرے کو اس سے دور کر دیا، اور تیسرے کی شناخت چھپا دی۔ لیکن تم یہ بھول گئیں کہ اس رات ایک شخص سب کچھ دیکھ رہا تھا۔“


کریم بخش نے نظریں چرا لیں۔


زایان فوراً اس کی طرف پلٹا۔ ”کریم بخش! کیا تم اس عورت کو جانتے ہو؟“


بوڑھے ملازم کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ ”میں… میں اسے بچپن سے جانتا ہوں۔“


رخشندہ نے تلخی سے کہا، ”صرف جانتے نہیں ہو، کریم بخش۔ تم نے ہی اس رات مجھے حویلی سے باہر نکالا تھا۔ تم نے ہی مجھے بتایا تھا کہ میرے بچے مر چکے ہیں۔“


ماہ نور کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

”تمہارے بچے؟“


رخشندہ کی نگاہ اس پر ٹھہر گئی۔


”ہاں، ماہ نور۔ میرے بچے۔“


یہ سنتے ہی زینب بیگم نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے۔


”یا اللہ… یہ راز اب کھل ہی گیا۔“


آذر نے بے صبری سے پوچھا، ”اگر رخشندہ کے بچے تھے تو ان میں سے کون سا بچہ اصل وارث ہے؟“


رخشندہ نے جواب دینے کے بجائے اپنے لباس کی اندرونی جیب سے ایک پرانا کاغذ نکالا۔ کاغذ کے کنارے جل چکے تھے، مگر اس پر تین نام ابھی بھی پڑھے جا سکتے تھے۔


آذر شاہ۔


زایان شاہ۔


اور تیسرا نام… مہرالنساء کی تحریر میں چھپا ہوا تھا۔


ماہ نور نے کاغذ قریب کر کے دیکھا۔ اس پر لکھا تھا:


”ماہ نور — تیسری اولاد، جس کی شناخت بدل دی گئی۔“


”یہ جھوٹ ہے!“ ماہ نور پیچھے ہٹ گئی۔ ”میں رخشندہ کی بیٹی نہیں ہو سکتی۔ میری ماں کا نام مہرالنساء ہے!“


رخشندہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔


”تمہاری پرورش مہرالنساء نے کی تھی، بیٹی۔ اس نے تمہیں اپنی جان سے زیادہ چاہا۔ لیکن تمہیں جنم میں نے دیا تھا۔ تمہیں مجھ سے چھین لیا گیا، اور مجھے بتایا گیا کہ تم دنیا میں نہیں رہیں۔“


ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کی پوری زندگی جیسے ایک لمحے میں اجڑ گئی تھی۔

”تو پھر مہرالنساء کہاں ہے؟ وہ عورت جو دروازے کے باہر میری ماں بن کر آئی تھی، وہ کون تھی؟“


رخشندہ نے سر جھکا لیا۔


”مجھے نہیں معلوم۔ لیکن اگر وہ واقعی مہرالنساء ہے تو وہ خطرے میں ہے۔ اور اگر وہ کوئی اور ہے… تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا دشمن ابھی بھی اس حویلی میں موجود ہے۔“


اسی لمحے اوپر سے ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ حویلی کی بتیاں بجھ گئیں اور تہہ خانہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔


”سب لوگ وہیں رہیں!“ سکندر شاہ چلایا۔


لیکن کسی نے اس کی بات نہ مانی۔


آذر نے موبائل کی روشنی جلائی۔ زایان دروازے کی طرف بھاگا، مگر دروازہ باہر سے بند تھا۔ کریم بخش نے دیوار ٹٹولی اور ایک خفیہ بٹن دبا دیا۔ پتھر کی دیوار کا ایک حصہ سرکنے لگا۔


”اس راستے سے نکلیں!“ اس نے کہا۔


سب ایک ایک کر کے تنگ راستے میں داخل ہوئے۔ ماہ نور سب سے آخر میں تھی کہ اچانک کسی نے پیچھے سے اس کا بازو پکڑ لیا۔


وہ چیخی۔


آذر پلٹا، مگر اندھیرے میں صرف ایک سیاہ سایہ دکھائی دیا۔ اس شخص نے ماہ نور کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پرچی تھما دی اور اسے چھوڑ کر غائب ہو گیا۔


آذر نے اسے اپنے پیچھے کھینچا۔ ”تم ٹھیک ہو؟“


ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے پرچی کھولی۔


اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:


”اپنی اصل ماں سے پوچھو کہ اس نے تیسرا بچہ کس کے حوالے کیا تھا۔“

رخشندہ نے پرچی دیکھی تو اس کے چہرے پر دہشت پھیل گئی۔


”نہیں… یہ شخص واپس نہیں آ سکتا۔“


زایان نے فوراً پوچھا، ”کون؟“


رخشندہ نے جواب دیا، ”وہ شخص جس نے تم تینوں بچوں کی شناخت بدلی تھی۔ وہ ابھی زندہ ہے۔“


”نام بتاؤ!“ آذر نے کہا۔


رخشندہ نے گہری سانس لی۔


”اس کا نام… نواب سکندر شاہ نہیں۔“


سب کی نظریں سکندر شاہ کی طرف اٹھ گئیں۔


رخشندہ نے آہستہ سے کہا، ”اس کا نام نواب فرید شاہ ہے۔ وہ اس حویلی کا اصل مالک تھا، اور سب نے اسے بارہ سال پہلے مردہ سمجھ کر دفن کر دیا تھا۔“

سکندر شاہ کی ٹانگیں جیسے جواب دے گئیں۔


”فرید شاہ… میرا بڑا بھائی؟“


رخشندہ نے سر ہلایا۔


”ہاں۔ اور اگر وہ واپس آ گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب کسی کی زندگی محفوظ نہیں۔“


دور کہیں حویلی کی گھنٹی بجی۔


ایک بار۔


پھر دوسری بار۔


اور پھر پورے گھر میں ایک آواز گونجی:


”خوش آمدید، میرے وارثو۔ تمہارا باپ واپس آ گیا ہے۔“


آذر، زایان اور ماہ نور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔


جاری ہے…


قسط 15 میں: کیا نواب فرید شاہ واقعی زندہ ہے؟ اس نے تینوں بچوں کی شناخت کیوں بدلی، اور ماہ نور کی اصل ماں مہرالنساء کہاں غائب ہو گئی؟


♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے