Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 16 | مردہ کون تھا، زندہ کون ہے؟ | Hearts Where Stay

پہاڑوں کی دلہن — قسط 16: مردہ کون تھا، زندہ کون ہے؟

پہاڑوں کی دلہن قسط 16 کا کور امیج، ماہ نور، نواب فرید شاہ، حارث اور مہرالنساء کے درمیان مردہ شخص کی واپسی اور خاندان کے خفیہ وارث کا پراسرار راز
پہاڑوں کی دلہن قسط 16 — مردہ کون تھا، زندہ کون ہے؟ حارث کی پراسرار واپسی، مہرالنساء کا راز اور نواب خاندان کے چھپے ہوئے وارث کی حیران کن کہانی۔ پڑھیے صرف Hearts Where Stay پر — Every Heart Has a Story۔

 رات کے بارہ بج چکے تھے۔


حویلی کے بڑے ہال میں ہر شخص خاموش کھڑا تھا۔ سامنے سیاہ چادر میں لپٹی عورت، جس نے خود کو مہرالنساء کہا تھا، ماہ نور کو مسلسل دیکھ رہی تھی۔


ماہ نور کی آنکھوں میں سوال ہی سوال تھے۔


’’اگر آپ میری ماں ہیں تو پھر اتنے سال کہاں تھیں؟ مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اور یہ کون سا تیسرا وارث ہے جس کا نام سن کر سب کے چہرے بدل جاتے ہیں؟‘‘


عورت نے آگے بڑھ کر ماہ نور کا چہرہ چھونے کی کوشش کی، مگر ماہ نور پیچھے ہٹ گئی۔


’’مجھے چھونے سے پہلے میرے سوالوں کے جواب دیں۔‘‘


عورت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔


’’بیٹی، میں نے تمہیں کبھی نہیں چھوڑا تھا۔ مجھے تم سے چھینا گیا تھا۔‘‘


رخشندہ نے فوراً مداخلت کی۔


’’یہ جھوٹ بول رہی ہے! مہرالنساء بارہ سال پہلے مر چکی ہے۔ میں نے خود اس کی قبر دیکھی تھی۔‘‘


عورت نے رخشندہ کی طرف دیکھا۔


’’تم نے قبر دیکھی تھی، مگر کیا تم نے میرا چہرہ دیکھا تھا؟‘‘


رخشندہ خاموش ہو گئی۔


نواب فرید شاہ نے غصے سے کہا۔


’’بس کرو! اس حویلی میں اب کوئی کسی کو دھوکا نہیں دے گا۔ مہرالنساء، تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم واقعی وہی ہو۔‘‘

Read Also 👇

🤰 Best Foods to Eat During Pregnancy: A Trimester-by-Trimester Nutrition Guide

Healthy food choices for a healthier pregnancy and growing baby

عورت نے اپنی گردن سے ایک پرانا لاکٹ اتارا۔


’’یہ لاکٹ یاد ہے، فرید؟ تم نے ہماری شادی کی پہلی سالگرہ پر مجھے دیا تھا۔ اس کے اندر ایک تصویر بھی ہے۔‘‘


نواب نے لاکٹ کھولا۔


اس میں ایک نوجوان عورت اور ایک مرد کی تصویر تھی۔ نواب کے ہاتھ کانپنے لگے۔


’’مہر… تم واقعی زندہ ہو؟‘‘


آذر نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا۔


’’آپ کو تو پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ کون ہیں؟‘‘


نواب نے نظریں جھکا لیں۔


’’میں نے اسے زندہ دیکھا تھا… مگر مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے دور جا چکی ہے۔‘‘


زایان نے سخت لہجے میں پوچھا۔


’’کس نے بتایا تھا؟‘‘


نواب نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ حویلی کے باہر گاڑی کے بریک لگنے کی آواز آئی۔


سب کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔


ایک ملازم گھبرایا ہوا اندر آیا۔


’’نواب صاحب! باہر ایک نوجوان کھڑا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کا نام حارث ہے اور وہ آپ سے ملنے آیا ہے۔‘‘


یہ نام سنتے ہی نواب کے ہاتھ سے لاکٹ گر گیا۔

’’حارث؟‘‘


رخشندہ کے چہرے پر خوف چھا گیا۔


’’نہیں… یہ نہیں ہو سکتا!‘‘


آذر نے فوراً پوچھا۔


’’یہ حارث کون ہے؟‘‘


نواب نے دھیمی آواز میں کہا۔


’’وہی جسے تم سب بارہ سال پہلے مردہ سمجھتے تھے۔‘‘


چند لمحوں بعد دروازہ کھلا۔


ایک نوجوان اندر داخل ہوا۔ اس کا قد، چہرہ اور آنکھیں نواب فرید شاہ سے حیرت انگیز حد تک ملتی تھیں۔


اس نے ہال میں موجود سب لوگوں کو دیکھا اور پھر آذر کے سامنے آ کر رک گیا۔

’’تم آذر ہو؟‘‘


آذر نے سر ہلایا۔


’’ہاں۔ تم کون ہو؟‘‘


نوجوان نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔


’’میں حارث ہوں۔ تمہارا بڑا بھائی۔‘‘


یہ سن کر زایان چونک اٹھا۔


’’ہمارے باپ کے تو صرف تین بچے تھے!‘‘


حارث نے اس کی طرف دیکھا۔


’’یہی تو تمہیں بتایا گیا تھا۔ حقیقت میں تمہارے باپ کے چار بچے تھے۔‘‘


ماہ نور کے ہاتھ سے شمع گر گئی۔


چار بچے؟


تو پھر چوتھا بچہ کون تھا؟


نواب فرید شاہ نے حارث کے قریب جانے کی کوشش کی، مگر حارث پیچھے ہٹ گیا۔


’’میرے قریب آنے کی کوشش مت کیجیے۔ آپ نے مجھے بچپن میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔‘‘


نواب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔


’’حارث، تمہیں غلط بتایا گیا ہے۔ میں نے تمہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔‘‘


حارث نے جیب سے ایک پرانا خط نکالا۔


’’تو پھر یہ خط کس نے لکھا تھا؟‘‘


اس نے خط نواب کے سامنے پھینک دیا۔


نواب نے خط کھولا۔ اس پر اس کی اپنی تحریر تھی۔


’’اس بچے کو حویلی سے دور کر دو۔ اسے کبھی واپس نہ آنے دینا۔ اگر یہ زندہ رہا تو پورے خاندان کا راز کھل جائے گا۔‘‘


نواب کے قدم لڑکھڑا گئے۔


’’یہ خط… یہ میری تحریر ہے، لیکن میں نے یہ کبھی نہیں لکھا!‘‘


حارث ہنس پڑا۔

’’اب ہر شخص اپنی غلطی سے انکار کرے گا؟‘‘


مہرالنساء نے آگے بڑھ کر حارث کا ہاتھ پکڑا۔


’’بیٹا، تمہیں بھی دھوکا دیا گیا ہے۔ تمہارے والد نے تمہیں نہیں چھوڑا تھا۔‘‘


حارث نے حیرت سے اس عورت کو دیکھا۔


’’آپ مجھے جانتی ہیں؟‘‘


مہرالنساء کی آنکھیں نم ہو گئیں۔


’’میں نے تمہیں اپنی گود میں کھلایا تھا۔ تم بہت چھوٹے تھے جب تمہیں مجھ سے چھین لیا گیا۔‘‘


حارث نے ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ دیکھا۔


’’تو کیا آپ ہی میری ماں ہیں؟‘‘


مہرالنساء نے جواب دینے کے بجائے ماہ نور کی طرف دیکھا۔


’’ماہ نور، تم میری بیٹی ہو، مگر حارث بھی میرے لیے اجنبی نہیں۔‘‘


ماہ نور نے بے یقینی سے پوچھا۔


’’کیا وہ میرا بھائی ہے؟‘‘


مہرالنساء نے سر جھکا لیا۔


’’یہی وہ راز ہے جس کے لیے مجھے اتنے سال خاموش رکھا گیا۔‘‘


آذر نے غصے سے کہا۔


’’کوئی صاف صاف کیوں نہیں بتاتا کہ اصل میں ہوا کیا تھا؟‘‘


مہرالنساء نے گہری سانس لی۔


’’اٹھارہ سال پہلے اس حویلی میں چار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔ تین بچوں کی خبر خاندان تک پہنچائی گئی، مگر چوتھے بچے کو دنیا سے چھپا دیا گیا۔‘‘


زایان نے بے اختیار پوچھا۔


’’چوتھا بچہ؟ مگر ہم تو ہمیشہ تین بچوں کی بات سنتے آئے ہیں!‘‘


’’کیونکہ چوتھے بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ایک حادثہ ہوا تھا۔ سب کو بتایا گیا کہ بچہ مر گیا ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اسے ایک خفیہ جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔‘‘


حارث نے غصے سے کہا۔


’’اور وہ بچہ میں تھا؟‘‘


مہرالنساء نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔


’’ہاں، تم وہی بچہ ہو۔‘‘


ہال میں خاموشی چھا گئی۔


آذر نے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔


’’تو پھر آپ نے ہمیں یہ سب کیوں نہیں بتایا؟‘‘


نواب فرید شاہ نے جواب دیا۔


’’کیونکہ اس بچے کی زندگی خطرے میں تھی۔ جس شخص نے اسے مجھ سے چھینا تھا، وہ آج بھی زندہ ہے۔‘‘


اسی لمحے رخشندہ زور سے ہنسنے لگی۔


سب نے اس کی طرف دیکھا۔


’’اب بھی جھوٹ؟ تم لوگ سمجھتے ہو کہ حارث ہی اصل وارث ہے؟‘‘


حارث نے غصے سے پوچھا۔


’’تم کیا جانتی ہو؟‘‘


رخشندہ نے اپنے پرس سے ایک پرانی تصویر نکالی۔


تصویر میں پانچ افراد تھے۔ نواب فرید شاہ، مہرالنساء، رخشندہ اور ان کے ساتھ دو بچے۔


مگر تصویر کے پیچھے ایک جملہ لکھا تھا:


’’پانچویں نام کو کبھی ظاہر نہ کرنا۔ وہی اس خاندان کی تباہی کا سبب بنے گا۔‘‘


ماہ نور نے تصویر دیکھی تو اس کی سانس رک گئی۔


’’یہ پانچواں نام کیا ہے؟‘‘


رخشندہ نے آہستہ سے کہا۔


’’تم سب جس وارث کو تلاش کر رہے ہو، وہ حارث نہیں ہے۔ وہ تمہارے درمیان ہی موجود ہے۔‘‘


آذر نے فوراً زایان کی طرف دیکھا۔


زایان نے سر جھٹک دیا۔


’’مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم!‘‘


حارث نے تصویر چھین کر دیکھی۔ پھر اچانک اس کی نظر تصویر کے ایک کونے پر پڑی، جہاں ایک چھوٹا سا بچہ کسی عورت کی گود میں تھا۔

اس نے کانپتی آواز میں کہا۔


’’یہ بچہ… یہ تو میں نہیں ہوں۔‘‘


نواب نے آنکھیں بند کر لیں۔


’’کیونکہ وہ بچہ تمہارا جڑواں بھائی تھا۔‘‘


حارث کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔


’’میرا جڑواں بھائی؟‘‘


نواب نے سر ہلایا۔


’’تم دونوں پیدا ہوئے تھے۔ ایک کو حویلی میں رکھا گیا، دوسرے کو دنیا سے چھپا دیا گیا۔‘‘


ماہ نور نے روتے ہوئے پوچھا۔


’’اور وہ دوسرا بچہ کہاں ہے؟‘‘


نواب جواب دینے ہی والا تھا کہ حویلی کی تمام روشنیاں اچانک بجھ گئیں۔


اندھیرے میں کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔


پھر ایک آواز گونجی۔


’’اس سوال کا جواب میں دوں گا۔‘‘


چند لمحوں بعد ایک ٹارچ روشن ہوئی۔


سامنے ایک شخص کھڑا تھا۔


اس کے چہرے پر آدھا نقاب تھا، مگر اس کی آواز نواب فرید شاہ جیسی تھی۔


’’فرید شاہ! تم نے میرے بچوں کو مجھ سے دور رکھا۔ اب میں اپنا حق لینے آیا ہوں۔‘‘


نواب نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا۔


’’تم…؟ تم تو بارہ سال پہلے مر چکے تھے!‘‘


اس شخص نے نقاب آہستہ سے اتارا۔


ماہ نور کی چیخ نکل گئی۔


کیونکہ سامنے کھڑا شخص نواب فرید شاہ کا ہم شکل تھا۔


اس نے مسکرا کر کہا:


’’میں فرید نہیں ہوں… میں اس کا جڑواں بھائی ہوں۔ نواب فرید شاہ نہیں، نواب فرہاد شاہ!‘‘


اور اس نے ماہ نور کی طرف دیکھ کر آخری جملہ کہا:


’’بیٹی، اب تمہیں اپنی اصل ماں ہی نہیں، اپنے اصل باپ کا نام بھی جاننا ہوگا۔‘‘


**جاری ہے…**


قسط 17 میں: کیا نواب فرہاد شاہ واقعی ماہ نور کا باپ ہے؟ حارث کا جڑواں بھائی کون ہے؟ اور رخشندہ کس پانچویں نام کو چھپا رہی ہے؟

♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے