پہاڑوں کی دلہن ❤️
قسط پنجم — وہ چہرہ جو اپنا تھا
ماہ نور اور آزر شاہ کی محبت، ایک پراسرار ڈائری، ماہ نور کی ماں کا راز اور شاہ خاندان کے چھپے ہوئے سچ کی نئی داستان۔
✍️ Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
رات کی خاموشی میں حویلی کی دیواریں جیسے کسی ان کہے راز کا بوجھ اٹھائے کھڑی تھیں۔
ماہ نور کے ہاتھ میں وہی پرانی ڈائری تھی۔ اس کے آخری صفحے پر لکھے الفاظ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے:
“قاتل وہ نہیں جس سے تم نفرت کرتی ہو، بلکہ وہ ہے جس پر تم سب سے زیادہ بھروسا کرتی ہو۔”
اس کی انگلیاں کانپنے لگیں۔
“یہ کون ہو سکتا ہے؟” اس نے خود سے سوال کیا۔ “اور بابا کی موت کا اس ڈائری سے کیا تعلق ہے؟”
اچانک کمرے کے باہر کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
ماہ نور نے فوراً ڈائری اپنے دوپٹے میں چھپا لی۔
دروازہ کھلا تو سامنے آزر شاہ کھڑا تھا۔
“تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟” اس نے ماہ نور کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نیند نہیں آ رہی تھی۔”
آزر کی نظر اس کے کانپتے ہاتھوں پر پڑی۔
“ماہ نور، تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی، “اگر میں تم سے ایک سوال پوچھوں تو سچ جواب دو گے؟”
“تمہیں مجھ سے سوال کرنے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔”
“اگر میرے بابا کی موت کا تعلق تمہارے خاندان سے ہوا تو؟”
آزر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کمرے میں اچانک ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وقت رک گیا ہو۔
“تمہیں یہ خیال کہاں سے آیا؟” اس کی آواز پہلے سے زیادہ بھاری تھی۔
ماہ نور نے ڈائری نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔
آزر نے چند صفحات پلٹے۔ جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا، اس کی آنکھوں میں حیرت کی جگہ غصہ اور پھر ایک عجیب سا خوف اترتا گیا۔
“یہ ڈائری تمہیں کہاں ملی؟”
“پرانے کمرے میں۔ اور اس میں ایک نام بھی ہے… حامد شاہ۔”
آزر نے فوراً سر اٹھایا۔
“حامد شاہ؟”
“تم انہیں جانتے ہو؟”
آزر نے جواب دینے کے بجائے ڈائری بند کر دی۔
“ماہ نور، آج کے بعد اس ڈائری کا ذکر کسی سے مت کرنا۔ کسی سے بھی نہیں۔”
“مجھ سے بھی نہیں؟” ماہ نور کی آواز ٹوٹ گئی۔ “تم بھی مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو، آزر!”
وہ اس کے قریب آیا، مگر ماہ نور ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔
“میں تمہیں نقصان سے بچانا چاہتا ہوں۔”
“یا اپنے خاندان کو بچانا چاہتے ہو؟”
یہ سوال آزر کے دل پر تیر کی طرح لگا۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا، “کاش تم جانتیں کہ میں خود اپنے خاندان کے بارے میں کتنا کم جانتا ہوں۔”
ماہ نور نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں بے بسی دیکھی۔
لیکن اس رات دونوں کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی ہو چکی تھی جسے محبت بھی فوراً نہیں گرا سکتی تھی۔
---
صبح ہوتے ہی ماہ نور حویلی کے پچھلے باغ میں چلی گئی۔ اسے یاد تھا کہ اس کے والد جب بھی اس گھر آتے تھے تو اسی باغ کے ایک پرانے دیودار کے نیچے دیر تک بیٹھا کرتے تھے۔
درخت کے قریب مٹی کچھ نئی سی دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے آس پاس دیکھا، پھر ایک چھوٹی سی لکڑی سے مٹی ہٹانے لگی۔
چند لمحوں بعد اسے ایک زنگ آلود ڈبہ ملا۔
ڈبے کے اندر ایک پرانی تصویر، چاندی کی انگوٹھی اور تہہ کیا ہوا خط رکھا تھا۔
تصویر میں اس کے والد ایک نوجوان عورت کے ساتھ کھڑے تھے۔ عورت کا چہرہ دیکھ کر ماہ نور کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
وہ زریں شاہ تھیں۔
مگر تصویر کے پیچھے لکھی تاریخ نے اس کے ذہن میں کئی سوال کھڑے کر دیے۔ یہ تصویر اس کے والد کی موت سے برسوں پہلے کی تھی۔
خط پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“اگر ماہ نور کو حقیقت معلوم ہو گئی تو شاہ خاندان بکھر جائے گا۔”
ماہ نور نے خط سینے سے لگا لیا۔
“آخر میرے بابا کیا جانتے تھے؟”
“یہ سوال تمہیں یہاں نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔”
آواز سن کر وہ چونک کر پلٹی۔
سامنے حامد شاہ کھڑے تھے۔
ان کی نگاہ پہلے خط پر پڑی، پھر ماہ نور کے چہرے پر۔
“یہ تمہیں کہاں سے ملا؟” انہوں نے سخت لہجے میں پوچھا۔
ماہ نور نے خط اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔
“اس کا جواب آپ دیں گے، حامد صاحب۔ میرے بابا کو کیا معلوم ہو گیا تھا؟”
حامد شاہ چند لمحے اسے دیکھتے رہے۔ پھر ان کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔
“تمہارے والد کو سچ جاننے کی عادت تھی۔ اور بعض سچ انسان کی جان لے لیتے ہیں۔”
“کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہیں کس نے مارا؟”
حامد شاہ نے جواب نہیں دیا۔
وہ صرف اتنا بولے، “اگر اپنی ماں کی طرح تم بھی خاموش رہنا سیکھ لیتیں تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔”
ماہ نور کے چہرے سے رنگ اڑ گیا۔
“میری ماں؟ آپ میری ماں کو کیسے جانتے ہیں؟”
مگر حامد شاہ وہاں سے جا چکے تھے۔
---
شام کو آزر نے ماہ نور کو چھت پر تنہا بیٹھے پایا۔ پہاڑوں کے پیچھے سورج ڈوب رہا تھا اور ٹھنڈی ہوا اس کے بالوں کو چہرے پر بکھیر رہی تھی۔
آزر خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا۔
“حامد شاہ سے ملی تھیں؟” اس نے پوچھا۔
ماہ نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “تمہیں کیسے معلوم؟”
“کیونکہ وہ آج میرے پاس بھی آئے تھے۔”
“کیا کہا انہوں نے؟”
آزر نے ایک گہری سانس لی۔
“انہوں نے کہا کہ تمہیں اس گھر سے دور رکھوں۔ ورنہ وہی ہوگا جو برسوں پہلے تمہارے والد کے ساتھ ہوا تھا۔”
ماہ نور کی آنکھیں بھر آئیں۔
“آزر، میں تھک گئی ہوں۔ ہر شخص کے پاس کوئی راز ہے۔ کوئی مجھے سچ نہیں بتاتا۔”
آزر نے پہلی بار اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
“میں وعدہ نہیں کرتا کہ ہر جواب آسان ہوگا، لیکن تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
ماہ نور نے اس کی طرف دیکھا۔
“اور اگر سچ نے ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا تو؟”
آزر کی آنکھوں میں درد اتر آیا۔
“تو مجھے تمہیں کھونے سے پہلے سچ کا سامنا کرنا ہوگا۔”
چند لمحوں کے لیے دونوں خاموش رہے۔ ان کے درمیان محبت موجود تھی، مگر اب اس محبت کے گرد خوف کا حصار بھی کھنچ چکا تھا۔
اسی وقت آزر کے فون پر ایک نامعلوم نمبر سے پیغام آیا۔
اس نے پیغام پڑھا تو اس کے ہاتھ سے فون تقریباً چھوٹ گیا۔
پیغام میں لکھا تھا:
“ماہ نور سے دور رہو۔ وہ عورت جسے تم مردہ سمجھتے ہو، ابھی زندہ ہے۔ اور وہ جلد واپس آنے والی ہے۔”
آزر نے فوراً ماہ نور کی طرف دیکھا۔
“کیا ہوا؟” اس نے پوچھا۔
آزر نے فون چھپا لیا۔
“کچھ نہیں۔”
لیکن اس کی آنکھیں اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔
دور پہاڑوں کے درمیان ایک گاڑی حویلی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی عورت نے حویلی کو دیکھا اور آہستہ سے اپنی انگوٹھی گھمائی۔
وہی چاندی کی انگوٹھی جس جیسی انگوٹھی ماہ نور کو باغ میں ملنے والے ڈبے سے ملی تھی۔
عورت کے ہونٹوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری۔
“اب وقت آ گیا ہے، ماہ نور… تمہیں اپنی ماں کا سچ بتانے کا۔”
جاری ہے…
کیا ماہ نور کی ماں واقعی زندہ ہے؟ زریں شاہ اور حامد شاہ کا اس راز سے کیا تعلق ہے؟ اور آزر کس سچ سے خوف زدہ ہے؟
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط ششم میں ایک نیا راز کھلے گا۔
❤️ پہاڑوں کی دلہن ❤️
اپنی پسندیدہ قسط پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں
📖 قسط اول — وہ اجنبی جو دل میں اتر گیا 📖 قسط دوم — ایک انجان خوف، ایک ان کہی محبت 📖 قسط سوم — ایک راز، جو محبت سے بھی گہرا تھا 📖 قسط چہارم — ڈائری کا آخری صفحہ✍️ Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story
Welcome to Our Royal Story Palace
ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت
⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

0 تبصرے