Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 1 | Urdu Romantic Novel



Hearts Where Stay ❤️
Every Heart Has a Story

پہاڑوں کی دلہن

قسط اوّل: وہ اجنبی جو دل میں اتر گیا
پہاڑوں کی دلہن قسط اوّل — وہ اجنبی جو دل میں اتر گیا | اردو رومانوی ناول
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط اوّل ❤️
وہ اجنبی جو دل میں اتر گیاایک خوبصورت اردو رومانوی ناول، جہاں پہاڑوں کی خاموشی میں محبت اور راز جنم لیتے ہیں۔
✍️ Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story

شام کے دھندلکے میں پہاڑوں پر پھیلی برف چاندی کی طرح چمک رہی تھی۔ دیودار کے لمبے درختوں سے گزرتی ٹھنڈی ہوا اپنے ساتھ کسی ان کہی داستان کی خوشبو لیے پھرتی تھی۔ اسی وادی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ماہ نور شاہ پہلی بار قدم رکھ رہی تھی۔

ماہ نور شہر کی روشن سڑکوں اور شور سے دور، اپنی خالہ کے گھر چند ہفتے گزارنے آئی تھی۔ اسے کیا خبر تھی کہ یہ سفر اس کی زندگی کا رخ بدل دے گا۔ اس کی آنکھوں میں خواب تھے، مگر دل میں ایک عجیب سی بےچینی بھی تھی، جیسے پہاڑ اسے کسی ایسے شخص کی طرف بلا رہے ہوں جس سے ملنا ابھی باقی تھا۔

گاڑی پتھریلی سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک موڑ پر سامنے سے آتے گھوڑے کو دیکھ کر ڈرائیور نے بریک لگائی۔ ماہ نور کا بیگ اس کی گود سے پھسل کر دروازے کے پاس جا گرا۔ وہ سنبھلنے کی کوشش میں باہر اتری تو اس کی نظر ایک لمبے قد کے نوجوان پر پڑی، جو سیاہ شال اوڑھے گھوڑے کی لگام تھامے کھڑا تھا۔

اس کی آنکھوں میں پہاڑوں جیسی گہرائی اور چہرے پر ایسی سنجیدگی تھی کہ ماہ نور چند لمحوں کے لیے اپنی بات ہی بھول گئی۔ نوجوان نے زمین پر گرا ہوا بیگ اٹھایا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔

”راستہ پہاڑوں کا ہے، بی بی۔ یہاں قدم ذرا سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔“

ماہ نور نے بیگ لیتے ہوئے بھنویں سکیڑیں۔ ”اور لوگوں سے بات بھی اسی طرح کی جاتی ہے؟“

نوجوان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، مگر اس کی آنکھیں اب بھی سنجیدہ تھیں۔ ”بات کا انداز انسان کے سامنے والے پر منحصر ہوتا ہے۔“

”تو پھر آپ کو کسی نے اچھے لوگوں سے ملنا نہیں سکھایا،“ ماہ نور نے فوراً جواب دیا۔

وہ پہلی بار کھل کر مسکرایا۔ ”سردار آزر شاہ۔ اس گاؤں میں لوگ مجھے اسی نام سے جانتے ہیں۔“

ماہ نور نے نام سنا تو بےاختیار خاموش ہو گئی۔ خالہ نے راستے میں اس خاندان کا ذکر کیا تھا—ایک بااثر گھرانہ، جس کے فیصلوں کے سامنے گاؤں کے لوگ کم ہی بولتے تھے۔ اور یہ نوجوان اسی خاندان کا وارث تھا۔

”ماہ نور،“ اس نے مختصر تعارف کروایا اور گاڑی کی طرف پلٹ گئی۔ اسے اپنے لہجے کی تیزی پر معمولی سا افسوس ہوا، مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔

آزر نے اسے جاتے دیکھا۔ سرد ہوا اس کی شال کا کنارہ اڑا رہی تھی۔ وہ خود بھی نہیں سمجھ پایا کہ ایک اجنبی لڑکی کے چند جملے اس کے ذہن میں کیوں ٹھہر گئے تھے۔ اس کی دنیا میں لوگ عموماً اس کے نام سے مرعوب ہوتے تھے؛ ماہ نور پہلی لڑکی تھی جس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا تھا۔

✦ ✦ ✦

نئی جگہ، انجان چہرے

خالہ کے گھر پہنچتے پہنچتے رات اتر آئی تھی۔ لکڑی کے گھر کی کھڑکیوں سے گرم روشنی باہر چھلک رہی تھی۔ خالہ نے ماہ نور کو گلے لگایا، اس کے سفر کا حال پوچھا اور پھر چائے کے ساتھ گاؤں کی باتیں شروع کر دیں۔

”کل تمہیں گاؤں کے لوگوں سے ملوانے لے جاؤں گی،“ خالہ نے کہا۔ ”بس ایک بات یاد رکھنا، بیٹا، یہاں ہر خاموشی کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔ خاص طور پر شاہ خاندان کے بارے میں سوال کرنے سے پہلے سوچ لینا۔“

ماہ نور نے چائے کا کپ میز پر رکھا۔ ”آج راستے میں ان کے ایک صاحبزادے سے ملاقات ہو گئی تھی۔ سردار آزر شاہ۔“

خالہ کے چہرے سے مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی۔ ”تم آزر سے ملی ہو؟“

”جی، مگر کیوں؟ وہ کوئی خطرناک آدمی ہیں؟“

خالہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔ کچھ دیر کھڑکی سے باہر اندھیرے پہاڑوں کو دیکھتی رہیں، پھر آہستہ سے بولیں، ”وہ برا انسان نہیں، لیکن اس کے خاندان کے کچھ راز ایسے ہیں جنہوں نے کئی زندگیاں بدل دی ہیں۔ تم ابھی یہاں نئی ہو۔ بہتر ہے کہ اس گھرانے سے فاصلہ رکھو۔“

ماہ نور نے ہنس کر بات ٹالنے کی کوشش کی، مگر خالہ کی آنکھوں میں چھپی تشویش نے اس کے دل میں سوالوں کا ایک نیا سلسلہ جگا دیا۔ وہ اپنے کمرے میں گئی تو نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ باہر ہوا درختوں سے ٹکرا رہی تھی، اور اس کے ذہن میں بار بار وہی گہری آنکھیں ابھر رہی تھیں۔

✦ ✦ ✦

پہلی دستک

اگلی صبح ماہ نور گھر کے قریب بہتے چشمے کی طرف نکل گئی۔ پانی شفاف تھا اور اس کے کناروں پر جنگلی پھول کھلے ہوئے تھے۔ وہ ایک پتھر پر بیٹھ کر منظر دیکھ رہی تھی کہ پیچھے سے گھوڑے کے قدموں کی آواز سنائی دی۔

اس نے پلٹ کر دیکھا تو آزر شاہ تھا۔

”آپ ہر جگہ راستہ روکنے آ جاتے ہیں؟“ ماہ نور نے کہا، اگرچہ اس کے لہجے میں کل جیسی سختی نہیں تھی۔

آزر گھوڑے سے اترا۔ ”یہ راستہ میرے گھر کی طرف جاتا ہے۔ شاید آپ میرے راستے میں بیٹھی ہیں۔“

”تو آپ دوسرا راستہ لے سکتے ہیں۔“

”لے سکتا ہوں،“ اس نے سکون سے کہا، ”مگر پھر شاید آپ سے بات کرنے کا موقع نہ ملے۔“

ماہ نور کا دل ایک لمحے کو دھڑکا، لیکن اس نے نظریں پانی پر جما دیں۔ ”آپ ہر لڑکی سے ایسے ہی بات کرتے ہیں؟“

”نہیں۔ ہر لڑکی مجھے جواب بھی نہیں دیتی۔“

اس بار ماہ نور اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکی۔ چند لمحوں کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی رہی—ایسی خاموشی جس میں اجنبیت کم اور تجسس زیادہ تھا۔ پھر آزر کے چہرے سے مسکراہٹ آہستہ آہستہ مٹ گئی۔

”ماہ نور،“ اس نے پہلی بار اس کا نام اس انداز سے لیا جیسے اسے یاد رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہو، ”اگر کوئی تم سے شاہ خاندان کے ماضی کے بارے میں پوچھے تو جلدی میں کسی پر یقین مت کرنا۔“

”کیوں؟ اس ماضی میں ایسا کیا ہے؟“

آزر نے جواب دینے کے بجائے دور پہاڑوں کی طرف دیکھا۔ ”کچھ سچ وقت سے پہلے سامنے آ جائیں تو سب کچھ بکھر جاتا ہے۔“

اسی لمحے گاؤں کی طرف سے ایک بوڑھا آدمی تیزی سے ان کی طرف آیا۔ اس نے آزر کے قریب پہنچ کر دھیمی آواز میں کچھ کہا۔ آزر کا چہرہ ایک دم سخت ہو گیا۔

”کیا ہوا؟“ ماہ نور نے پوچھا۔

آزر نے اس کی طرف دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر خود کو روک رہا ہو۔ پھر وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور جاتے جاتے صرف اتنا بولا، ”آج شام گھر سے باہر مت نکلنا۔ جو بھی ہو، دروازہ کسی اجنبی کے لیے مت کھولنا۔“

ماہ نور اسے دور جاتے دیکھتی رہی۔ اس کے دل میں خوف بھی تھا اور سوال بھی۔ آزر کے الفاظ کسی عام تنبیہ جیسے نہیں لگے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پہاڑوں کی خاموشی کے پیچھے کوئی پرانا راز جاگ اٹھا ہو۔

✦ ✦ ✦

شام ڈھلی تو وادی پر دھند اترنے لگی۔ ماہ نور کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی کہ اچانک دروازے پر تین زور دار دستکیں ہوئیں۔ خالہ ابھی بازار سے واپس نہیں آئی تھیں۔ گھر میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔

”کون ہے؟“ اس نے اندر سے پوچھا۔

باہر سے کوئی جواب نہ آیا۔ صرف ایک کاغذ دروازے کے نیچے سے اندر سرکایا گیا۔ ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ اٹھایا۔ اس پر چند لفظ لکھے تھے:

”اگر اپنی زندگی عزیز ہے تو سردار آزر شاہ سے دور رہو۔“

ماہ نور کے ہاتھ سرد پڑ گئے۔ اس نے فوراً کھڑکی سے باہر جھانکا، مگر دھند میں کسی کا وجود دکھائی نہ دیا۔ دور پہاڑی راستے پر ایک سیاہ سایہ تیزی سے غائب ہو رہا تھا۔

اسی وقت اس کا فون بج اٹھا۔ نامعلوم نمبر تھا۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے کال اٹھائی۔ دوسری طرف ایک بھاری آواز سنائی دی:

”ماہ نور شاہ؟ اگر تم نے آزر کے قریب جانے کا فیصلہ کیا ہے تو یاد رکھنا—تمہاری آمد سے ایک پرانا حساب دوبارہ کھل گیا ہے۔“

کال منقطع ہو گئی۔ ماہ نور کی نگاہیں دروازے کے نیچے پڑے کاغذ پر جم گئیں۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ صرف ایک خوبصورت وادی میں چھٹیاں گزارنے نہیں آئی تھی۔ اس کی آمد کسی ایسی کہانی کا آغاز بن چکی تھی جس کا انجام شاید وہ خود بھی نہ جانتی تھی۔

جاری ہے۔۔۔

❤️ پہاڑوں کی دلہن ❤️

📖 قسط پنجم پڑھیں

وہ چہرہ جو اپنا تھا

Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story

Hearts Where Stay ❤️
Every Heart Has a Story

© Hearts Where Stay — تمام حقوق محفوظ ہیں۔


♥ Visit Our Homepage ➜
EVERY HEART HAS A STORY


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے