Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 2 | Urdu Romantic Novel

 پہاڑوں کی دلہن ❤️


 قسط دوم: ایک انجان خوف، ایک ان کہی محبت

تحریر: Hearts Where Stay ❤️

پہاڑوں کی دلہن قسط دوم — ایک انجان خوف، ایک ان کہی محبت | اردو رومانوی ناول
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط دوم ❤️

ایک انجان خوف، ایک ان کہی محبت

پہاڑوں کی پراسرار وادی میں محبت کی نئی کہانی، ان کہے جذبات اور چھپے ہوئے رازوں کے ساتھ۔

✍️ Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story

رات کے اندھیرے میں ماہ نور کے ہاتھ میں پکڑا ہوا کاغذ کانپ رہا تھا۔ دروازے کے نیچے سے آنے والی وہ دھمکی اس کے دل میں خوف کی ایک نئی لہر دوڑا چکی تھی۔


”اگر اپنی زندگی عزیز ہے تو سردار آزر شاہ سے دور رہو۔“


وہ بار بار ان الفاظ کو پڑھ رہی تھی۔ آخر آزر میں ایسا کیا راز چھپا تھا جس سے پورا گاؤں خوف زدہ تھا؟


اسی لمحے باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔


ماہ نور نے کھڑکی سے دیکھا۔ سیاہ گاڑی کے پاس آزر شاہ کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ والی سنجیدگی نہیں، بلکہ عجیب سی بےچینی تھی۔


دروازے پر دستک ہوئی۔


”ماہ نور! دروازہ کھولو۔“


اس کی آواز سنتے ہی ماہ نور کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔


”آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟“ اس نے دروازے کے پیچھے سے پوچھا۔


”کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ کوئی تمہیں ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔“


ماہ نور نے فوراً دروازہ کھولا اور کاغذ اس کے سامنے کر دیا۔


آزر کی نظریں تحریر پر پڑیں تو اس کا چہرہ سخت ہو گیا۔ اس نے کاغذ مٹھی میں بھینچ لیا۔


”یہ تمہیں کہاں سے ملا؟“


”میرے دروازے کے نیچے سے آیا تھا۔ اب آپ مجھے بتائیں گے کہ آخر یہ سب کیا ہے؟ آپ کے خاندان کا ماضی کیا ہے؟ اور کوئی مجھے آپ سے دور رہنے کی دھمکی کیوں دے رہا ہے؟“


آزر کچھ دیر خاموش رہا۔


”ہر سوال کا جواب ہوتا ہے، ماہ نور۔ لیکن بعض جواب انسان کی زندگی بدل دیتے ہیں۔“


”اور بعض خاموشیاں انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں، سردار آزر شاہ!“


اس کے لہجے میں غصہ تھا، مگر آنکھوں میں خوف بھی چھپا ہوا تھا۔


آزر نے پہلی بار اسے اس طرح دیکھا جیسے اس کے الفاظ اس کے دل تک پہنچ گئے ہوں۔


”میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا،“ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔


ماہ نور نے فوراً جواب دیا، ”میں نے آپ سے حفاظت نہیں مانگی۔ میں نے سچ مانگا ہے۔“


آزر کے لب ہلکے سے کھلے، مگر وہ کچھ کہہ نہ سکا۔


کیونکہ سچ صرف اس کے خاندان کا نہیں تھا۔


اس سچ میں ماہ نور کا نام بھی شامل تھا۔


🏔️ ایک پرانی تصویر


اگلی صبح ماہ نور کی آنکھ کھلی تو خالہ واپس آ چکی تھیں۔ ناشتے کی میز پر وہ معمول کے مطابق باتیں کر رہی تھیں، لیکن ماہ نور کے ذہن میں رات والا واقعہ گردش کر رہا تھا۔


”خالہ، کیا آپ مجھے کچھ بتانا چاہتی ہیں؟“


خالہ کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ رک گیا۔


”کس بارے میں؟“


”شاہ خاندان کے بارے میں۔ آزر کے بارے میں۔“


خالہ نے گہری سانس لی۔


”ماہ نور، کچھ کہانیاں جتنی خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، حقیقت میں اتنی ہی دردناک ہوتی ہیں۔“


”تو مجھے حقیقت جاننے کا حق ہے۔“


خالہ اسے گھر کے ایک پرانے کمرے میں لے گئیں۔ کمرے میں لکڑی کی الماری، پرانی کتابیں اور ماضی کی یادوں سے بھرا ایک صندوق رکھا تھا۔


خالہ نے صندوق کھولا اور ایک پرانی تصویر نکالی۔


تصویر میں ایک نوجوان عورت سرخ دوپٹے میں مسکرا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ایک مرد کھڑا تھا، جس کی آنکھیں حیرت انگیز طور پر آزر سے ملتی تھیں۔


ماہ نور نے تصویر اپنے ہاتھ میں لے لی۔


”یہ کون ہیں؟“


خالہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔


”یہ تمہاری ماں ہیں، ماہ نور۔ اور ان کے ساتھ کھڑا شخص...“


وہ اچانک خاموش ہو گئیں۔


”کون؟“ ماہ نور نے بےچینی سے پوچھا۔


خالہ نے بمشکل الفاظ ادا کیے۔


”سردار آزر شاہ کے والد۔“


ماہ نور کے قدموں تلے جیسے زمین نکل گئی۔


”لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ میری ماں کا شاہ خاندان سے کیا تعلق تھا؟“


خالہ نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔


”تمہاری ماں نے زندگی میں بہت کچھ کھویا تھا۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ تمہیں اس ماضی سے دور رکھوں گی۔“


”آپ نے مجھ سے اتنا بڑا سچ چھپایا؟“


ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔


”میں تمہیں بچانا چاہتی تھی، بیٹا۔“


”کس سے؟ آزر سے؟ یا اس خاندان سے جس کا نام میری ماں کی تصویر کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟“


خالہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔


 ❤️ دل کی پہلی آہٹ


اسی دن دوپہر کو ماہ نور گھر سے نکل کر پہاڑی راستے پر چلنے لگی۔ اس کا دل سوالوں سے بھرا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آزر سے نفرت کرے، اس سے جواب مانگے یا اس سے بالکل دور ہو جائے۔


چشمے کے قریب پہنچ کر وہ رک گئی۔


آزر وہاں پہلے سے موجود تھا۔


”مجھے معلوم تھا تم یہاں آؤ گی،“ اس نے کہا۔


ماہ نور نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔


”کیا آپ کو معلوم تھا کہ میری ماں آپ کے والد کو جانتی تھیں؟“


آزر کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔


”تم نے وہ تصویر دیکھ لی؟“


”تو یہ سب سچ ہے؟“


آزر نے نظریں جھکا لیں۔


”ہاں۔“


”پھر مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟“


”کیونکہ میں خود بھی پوری حقیقت نہیں جانتا۔ لیکن ایک بات جانتا ہوں، تمہارے خاندان کے ساتھ جو ہوا، اس میں بہت سے ایسے لوگ شامل تھے جنہوں نے سچ کو دفن کرنے کی کوشش کی۔“


”اور آپ؟ آپ کس طرف ہیں؟“


آزر نے اس کی طرف قدم بڑھایا، مگر ماہ نور ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔


وہ وہیں رک گیا۔


”میں تمہارے خلاف نہیں ہوں، ماہ نور۔ کبھی نہیں۔“


ماہ نور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پہلی بار اسے اس کی سختی کے پیچھے چھپا درد محسوس ہوا۔


”میں آپ پر یقین کیسے کروں؟“


آزر کی آواز دھیمی ہو گئی۔


”یقین مت کرو۔ بس مجھے سچ تلاش کرنے کا ایک موقع دے دو۔“


کچھ لمحوں تک دونوں خاموش رہے۔ پھر آزر نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکالی۔


”یہ میرے والد کے کمرے کی چابی ہے۔ ان کے انتقال کے بعد سے وہ کمرہ بند ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہاں تمہاری ماں کے بارے میں کچھ موجود ہے۔“


ماہ نور نے چابی کی طرف دیکھا۔


”آپ مجھے وہاں لے جائیں گے؟“


”اگر تم میرے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو۔“


اس بار ماہ نور نے نظریں نہیں چرائیں۔


”میں سچ جاننے کے لیے تیار ہوں۔“


آزر کے چہرے پر پہلی بار سکون کی ہلکی سی جھلک نمودار ہوئی۔


لیکن دونوں کو معلوم نہیں تھا کہ کوئی دور کھڑا ان کی ہر بات سن رہا تھا۔


اور اس شخص کے ہاتھ میں ایک فون تھا، جس پر ابھی ابھی ایک پیغام بھیجا گیا تھا:


”وہ دونوں ایک ساتھ ہیں۔ اب اگلا قدم اٹھانا ہوگا۔“


 🌙 ایک بند کمرے کا راز


شام ہوتے ہی آزر ماہ نور کو شاہ حویلی لے آیا۔ حویلی کے بلند دروازے، خاموش راہداریاں اور دیواروں پر لگی پرانی تصویریں کسی بھولی ہوئی تاریخ کی گواہی دے رہی تھیں۔


آزر اسے ایک طویل راہداری سے گزار کر آخری کمرے کے سامنے لے آیا۔


”میرے والد کی وفات کے بعد کسی نے یہ کمرہ نہیں کھولا،“ اس نے کہا۔


چابی تالے میں گھومی۔


دروازہ چرچراتا ہوا کھلا تو اندر گرد سے اٹی کتابیں، ایک پرانی میز اور لکڑی کی الماری دکھائی دی۔


ماہ نور کی نظر میز پر رکھی ایک ڈائری پر پڑی۔


اس نے ڈائری کھولی۔ پہلے چند صفحات پر تاریخیں اور ادھورے جملے لکھے تھے۔ پھر ایک صفحے پر اس کی نگاہ جم گئی۔


”اگر کبھی ماہ نور واپس اس وادی میں آئے تو اسے بتا دینا کہ اس کے والد کی موت ایک حادثہ نہیں تھی۔“


ماہ نور کے ہاتھ سے ڈائری تقریباً گر گئی۔


”میرے والد؟“ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ ”آزر، میرے والد کی موت کیسے ہوئی تھی؟ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ وہ ایک حادثے میں فوت ہوئے تھے!“


آزر نے ڈائری اس کے ہاتھ سے لے کر دوبارہ پڑھا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔


اسی لمحے کمرے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی۔


دونوں نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا۔


دروازے میں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔


”سردار صاحب،“ اس نے کانپتی آواز میں کہا، ”یہ ڈائری بند کر دیجیے۔ اس میں جو کچھ لکھا ہے، اگر وہ باہر آ گیا تو صرف آپ کا خاندان نہیں، پورا گاؤں برباد ہو جائے گا۔“


ماہ نور نے ڈائری اپنے سینے سے لگا لی۔


”نہیں،“ اس نے مضبوط آواز میں کہا۔ ”اب کوئی سچ نہیں چھپائے گا۔“


آزر نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اب صرف تشویش نہیں تھی—ایک ایسا عزم بھی تھا جو شاید پہلی بار کسی دوسرے انسان کے لیے جاگا تھا۔


اور اسی لمحے حویلی کی بجلی بند ہو گئی۔


اندھیرے میں ایک آواز گونجی:


”ڈائری ہمارے حوالے کر دو!“


ماہ نور نے بےاختیار آزر کا ہاتھ تھام لیا۔


آزر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور سرگوشی کی:


”گھبرانا مت، ماہ نور۔ جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں

، کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔“


لیکن اندھیرے میں آنے والا شخص کون تھا؟


اور کیا ماہ نور کے والد کی موت کے پیچھے واقعی شاہ خاندان کا کوئی راز چھپا تھا؟


جاری ہے۔۔۔ ❤️


اگلی قسط: ڈائری کا آخری صفحہ — صرف Hearts Where Stay پر۔

📖 READ PART 1 ➜

❤️ پہاڑوں کی دلہن ❤️

📖 قسط پنجم پڑھیں

وہ چہرہ جو اپنا تھا

Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story

♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے