Advertisement

پہاڑوں کی دلہن قسط 3 | ایک راز، جو محبت سے بھی گہرا تھا

 پہاڑوں کی دلہن ❤️

قسط سوم — ایک راز، جو محبت سے بھی گہرا تھا

پہاڑوں کی دلہن قسط سوم، ایک راز جو محبت سے بھی گہرا تھا، اردو رومانوی ناول
❤️ پہاڑوں کی دلہن — قسط سوم ❤️
ایک راز، جو محبت سے بھی گہرا تھا۔
ماہ نور اور آزر شاہ کی کہانی میں محبت، پراسرار راز اور جذباتی موڑ کی نئی داستان۔
✍️ Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story


رات اپنی سیاہ چادر پہاڑوں پر پھیلا چکی تھی۔ دور کہیں بھیڑیے کے رونے جیسی آواز سنائی دیتی، اور ٹھنڈی ہوا حویلی کی بلند کھڑکیوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی سرسراہٹ پیدا کر رہی تھی۔


شاہ حویلی میں سب سو چکے تھے، مگر ماہ نور شاہ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔


وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی۔ چاند بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا اور سامنے پھیلے درخت اندھیرے میں کسی خاموش محافظ کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔


اس کے ذہن میں بار بار آزر شاہ کا چہرہ ابھر رہا تھا۔


وہ شخص جو سب کے سامنے سخت مزاج، مغرور اور بےحد سنجیدہ دکھائی دیتا تھا، جب کبھی ماہ نور کے سامنے آتا تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کیفیت اتر آتی۔ جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر اپنے ہی الفاظ سے خوف کھاتا ہو۔


ماہ نور نے بےاختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔


”یا اللہ! یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ میں اس شخص سے ناراض ہونا چاہتی ہوں، مگر جب وہ سامنے آتا ہے تو میری ساری شکایتیں کہیں کھو جاتی ہیں۔“


اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔


”نہیں ماہ نور! تم یہاں محبت کرنے نہیں آئی ہو۔ تمہیں اس حویلی میں اپنے سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں۔ تمہیں جاننا ہے کہ آزر شاہ کی آنکھوں میں چھپا درد کس بات کا ہے۔“


مگر دل کب کسی کی سنتا ہے؟


اسے یاد آیا کہ شام کے وقت آزر نے اس کے دوپٹے کا ایک کنارہ دروازے میں پھنسنے سے بچایا تھا۔ اس لمحے اس کی انگلیاں ماہ نور کی انگلیوں سے چھو گئی تھیں، اور آزر نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا۔


اس کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے جو نرمی ابھری تھی، وہ ماہ نور اب تک نہیں بھلا پائی تھی۔


اچانک اسے نیچے سے کسی دروازے کے کھلنے کی آواز سنائی دی۔


ماہ نور چونک گئی۔


اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔


اتنی رات گئے حویلی میں کون جاگ رہا تھا؟


وہ دبے قدموں دروازے کے قریب آئی اور اسے آہستگی سے کھول کر باہر جھانکا۔ راہداری میں اندھیرا تھا، البتہ سیڑھیوں کے قریب ایک مدھم سی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔


ماہ نور کے دل میں تجسس جاگ اٹھا۔


وہ شال اپنے کندھوں پر ڈال کر خاموشی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی۔


سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے ماہ نور نے کسی مرد کی دھیمی آواز سنی۔


”میں نے تم سے کہا تھا کہ اس معاملے کو دوبارہ مت چھیڑنا! اگر ماہ نور کو حقیقت معلوم ہو گئی تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔“


ماہ نور کے قدم رک گئے۔


یہ آواز آزر شاہ کی تھی۔


وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔


دوسری طرف سے ایک عمر رسیدہ شخص کی آواز سنائی دی۔


”سردار صاحب! سچ کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا۔ آپ جتنا چاہیں کوشش کر لیں، ایک دن حقیقت سب کے سامنے آ کر رہے گی۔“


”میں حقیقت جانتا ہوں!“ آزر کی آواز میں غصہ تھا۔ ”اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس سچ کی قیمت کون ادا کرے گا۔“


”لیکن اس لڑکی کا کیا قصور ہے؟ اسے کب تک اندھیرے میں رکھیں گے؟“


کچھ لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔


پھر آزر نے دھیمی آواز میں کہا:


”جب تک میں زندہ ہوں، کوئی اس تک نہیں پہنچے گا۔ میں اسے اس سب سے دور رکھوں گا۔“


ماہ نور کی سانس رک سی گئی۔


اسے کس سے دور رکھا جا رہا تھا؟ کون سا راز تھا جس کی وجہ سے آزر شاہ اس قدر پریشان تھا؟


وہ مزید سننا چاہتی تھی کہ اچانک اس کے پاؤں کے نیچے لکڑی کا ایک پرانا تختہ چرچرایا۔


اندر موجود دونوں افراد خاموش ہو گئے۔


”کون ہے وہاں؟“ آزر کی گرج دار آواز پورے راہداری میں گونج اٹھی۔


ماہ نور نے پلٹ کر بھاگنا چاہا، مگر اس سے پہلے ہی آزر دروازے پر آ گیا۔


اس کی نظریں سیدھی ماہ نور کے چہرے پر جم گئیں۔


”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“


ماہ نور نے خود کو سنبھالا۔


”میں پانی پینے آئی تھی۔“


آزر کی آنکھوں میں شک کی ایک لہر ابھری۔


”رات کے دو بجے؟“


”جی، کیا اس حویلی میں پانی پینے کے لیے بھی آپ کی اجازت لینا ضروری ہے؟“


آزر نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر جیسے کوئی جواب آیا، مگر وہ خاموش رہا۔


پھر اس نے دروازے کے اندر موجود شخص کی طرف دیکھ کر کہا:


”آپ اپنے کمرے میں جائیں۔ باقی بات صبح ہو گی۔“


وہ بوڑھا شخص سر جھکا کر وہاں سے چلا گیا۔


اب راہداری میں صرف آزر اور ماہ نور رہ گئے تھے۔


آزر نے ماہ نور کے قریب آ کر دھیمی آواز میں کہا:


”تمہیں رات کے وقت اس طرح اکیلے نہیں گھومنا چاہیے۔ یہ شہر نہیں، پہاڑ ہیں۔ یہاں ہر راستہ محفوظ نہیں ہوتا۔“


ماہ نور نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا:


”اور ہر انسان بھی قابلِ بھروسا نہیں ہوتا، سردار صاحب۔“


آزر کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے عجیب سی تکلیف ابھری۔


”یہ بات تم نے ٹھیک کہی۔“


یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا۔


مگر ماہ نور کو اس کے آخری جملے نے پہلے سے زیادہ الجھا دیا تھا۔


اگلی صبح حویلی کے صحن میں دھوپ اتر رہی تھی۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف سورج کی روشنی میں چمک رہی تھی اور باغ میں لگے گلابوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔


ماہ نور ناشتہ کرنے کے لیے نیچے آئی تو آزر پہلے ہی میز پر موجود تھا۔


سفید قمیص، سیاہ واسکٹ اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی۔ وہ کسی کاغذ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا، مگر جیسے ہی ماہ نور کمرے میں داخل ہوئی، اس کی نظریں خودبخود اس کی طرف اٹھ گئیں۔


ماہ نور نے سلام کیا۔


”السلام علیکم۔“


”وعلیکم السلام۔“


بس اتنا ہی۔


نہ کوئی سوال، نہ کوئی مسکراہٹ۔


ماہ نور کرسی پر بیٹھ گئی۔ ملازمہ نے اس کے سامنے چائے اور ناشتہ رکھ دیا، لیکن اس کا دل کھانے میں نہیں لگ رہا تھا۔


کچھ دیر بعد آزر نے کاغذات ایک طرف رکھ دیے۔


”آج تم میرے ساتھ باہر چلو گی۔“


ماہ نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔


”کہاں؟“


”تمہیں اس جگہ کے بارے میں جاننا چاہیے جہاں تم رہ رہی ہو۔“


”اور اگر میں نہ جانا چاہوں تو؟“


آزر نے چائے کا کپ میز پر رکھا۔


”تو تم نہیں جاؤ گی۔ میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا۔“


ماہ نور کو اس کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ آزر ہمیشہ کی طرح حکم دے گا، مگر آج اس کے لہجے میں زبردستی کے بجائے عجیب سی نرمی تھی۔


اس نے کچھ سوچ کر کہا:


”ٹھیک ہے، میں چلوں گی۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔“


آزر نے ابرو اٹھایا۔


”کیا؟“


”راستے میں میرے سوالوں کے جواب دیں گے۔“


آزر چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔


”میں ہر سوال کا جواب دینے کا وعدہ نہیں کر سکتا۔ لیکن جو بتا سکتا ہوں، وہ تم سے نہیں چھپاؤں گا۔“


ماہ نور نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید آج اسے اس پراسرار انسان کی زندگی کا کوئی نیا پہلو دیکھنے کو ملے گا۔


مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ اس سفر میں اسے صرف آزر کی دنیا نہیں، بلکہ اپنی زندگی سے جڑا ایک ایسا نشان بھی ملنے والا ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا تک نہیں تھا۔


کچھ ہی دیر بعد گاڑی حویلی کے بڑے دروازے سے باہر نکل گئی۔


پہاڑی راستہ بل کھاتا ہوا جنگل کی طرف جا رہا تھا۔ ایک طرف بلند چٹانیں تھیں اور دوسری طرف گہری وادی، جس کے نیچے ایک چھوٹا سا دریا شور مچاتا ہوا بہہ رہا تھا۔


ماہ نور کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔


”یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے،“ اس کے منہ سے بےاختیار نکلا۔


آزر نے ایک مختصر سی نظر اس کی طرف ڈالی۔


”خوبصورتی ہمیشہ سکون نہیں دیتی۔ کبھی کبھی سب سے خوبصورت جگہوں میں سب سے زیادہ درد چھپا ہوتا ہے۔“


ماہ نور نے اس کی طرف دیکھا۔


”آپ ہمیشہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں جیسے آپ نے زندگی میں کبھی خوشی دیکھی ہی نہیں؟“


آزر کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر ذرا سخت ہو گئے۔


”کیونکہ کچھ خوشیاں انسان سے بہت پہلے چھن جاتی ہیں۔“


”اور اگر وہ خوشیاں واپس مل سکتی ہوں تو؟“


آزر نے جواب دینے کے بجائے گاڑی کی رفتار کم کر دی۔


چند لمحوں بعد اس نے کہا:


”ہر کھوئی ہوئی چیز واپس نہیں ملتی، ماہ نور۔ بعض اوقات انسان صرف اس کی یاد کے ساتھ جینا سیکھتا ہے۔“


ماہ نور خاموش ہو گئی۔


اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ آزر کے اندر کوئی ایسا زخم ہے جسے وہ دنیا سے چھپائے ہوئے ہے۔ اس کی سختی شاید غرور نہیں تھی، بلکہ ایک دیوار تھی جس کے پیچھے وہ اپنے درد کو محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔


راستے میں ایک تیز موڑ آیا۔ گاڑی ہلکی سی اچھلی تو ماہ نور کا ہاتھ دروازے کے ساتھ ٹکرا گیا۔


”آہ!“


آزر نے فوراً گاڑی روک دی۔


”کیا ہوا؟“


”کچھ نہیں، بس ہاتھ لگ گیا ہے۔“


اس نے ماہ نور کا ہاتھ اپنی طرف بڑھانے کو کہا۔


”دکھاؤ۔“


”میں ٹھیک ہوں۔“


”ماہ نور، ہاتھ دکھاؤ۔“


اس بار اس کی آواز میں حکم کم اور فکر زیادہ تھی۔


ماہ نور نے آہستہ سے ہاتھ آگے کر دیا۔ اس کی کلائی پر ہلکی سی سرخی آ گئی تھی۔


آزر نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور نرمی سے اس کی کلائی کے گرد رکھ دیا۔


”تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیے۔“


ماہ نور اس کے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھتی رہی۔


”آپ کو میری اتنی فکر کیوں ہوتی ہے؟“


آزر کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گئے۔


اس نے سر اٹھایا۔


دونوں کی نظریں ملیں۔


ایک لمحہ ایسا تھا جب پہاڑوں کی ہوا، دریا کا شور اور دنیا کی ہر آواز جیسے کہیں دور چلی گئی۔


آزر نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔


”کیونکہ تم میری ذمہ داری ہو۔“


ماہ نور کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر اس کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔


”صرف ذمہ داری؟“


آزر نے کوئی جواب نہیں دیا۔


وہ دوبارہ گاڑی چلانے لگا، مگر اس کے چہرے پر چھائی بےچینی ماہ نور سے چھپی نہ رہ سکی۔


اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید آزر شاہ کے پاس جواب تو بہت ہیں، مگر اپنے دل کے سوالوں کا جواب اس کے پاس بھی نہیں۔


کچھ دیر بعد گاڑی ایک پرانی عمارت کے سامنے جا رکی۔


یہ جگہ مرکزی حویلی سے کافی دور تھی۔ اس کے گرد اونچے درخت تھے، دیواروں پر بیلیں چڑھی ہوئی تھیں اور لکڑی کا بڑا دروازہ وقت کے ساتھ اپنی رنگت کھو چکا تھا۔


ماہ نور نے حیرت سے پوچھا:


”یہ کون سی جگہ ہے؟“


آزر نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا:


”یہ ہمارے خاندان کی پرانی حویلی ہے۔ کئی سالوں سے بند پڑی ہے۔“


”بند کیوں ہے؟“


آزر نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا:


”کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بند رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔“


ماہ نور کو اس کا جواب پسند نہیں آیا۔


”آپ مجھے یہاں لے کر آئے ہیں تو کچھ بتائیں گے بھی یا صرف پہیلیاں ہی بجھواتے رہیں گے؟“


آزر کے ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔


”تم بہت سوال کرتی ہو۔“


”اور آپ بہت باتیں چھپاتے ہیں۔“


اس بار آزر نے واقعی مسکرانے کی کوشش کی، مگر اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر سنجیدگی واپس آ گئی۔


اس نے اپنی جیب سے چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا۔


اندر قدم رکھتے ہی ماہ نور کو پرانی لکڑی، بند کمروں اور مٹی کی ملی جلی بو محسوس ہوئی۔ سامنے ایک بڑا سا ہال تھا، جس کی دیواروں پر پرانی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔


کچھ تصویروں پر دھول کی موٹی تہہ جمی تھی۔


ماہ نور آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔ ایک تصویر کے سامنے پہنچ کر وہ رک گئی۔


تصویر میں ایک خوبصورت نوجوان عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر نرمی، آنکھوں میں گہری اداسی اور ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ تھی۔


ماہ نور نے تصویر کو غور سے دیکھا۔


اس عورت کی آنکھیں بالکل اس جیسی تھیں۔


وہ بےاختیار آزر کی طرف مڑی۔


”یہ کون ہیں؟“


آزر نے تصویر کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔


”اس تصویر کو ہاتھ مت لگانا۔“


ماہ نور نے حیرت سے پوچھا:


”کیوں؟ یہ کون ہیں؟“


آزر اس کے قریب آیا اور تصویر کے سامنے کھڑا ہو گیا۔


”میں نے کہا نا، اسے چھوڑ دو۔“


اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ ماہ نور چند لمحے خاموش رہ گئی۔


پھر اس نے آہستہ سے کہا:


”آپ اس عورت کو جانتے ہیں۔“


آزر نے نظریں پھیر لیں۔


”ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے۔“


”نہیں! پہلے مجھے بتائیں کہ یہ عورت کون ہے۔“


”ماہ نور!“


”آپ ہر بار میرا نام لے کر مجھے خاموش نہیں کر سکتے۔ میں بھی انسان ہوں۔ میرے بھی سوال ہیں۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس تصویر کو دیکھ کر آپ کے چہرے کا رنگ کیوں بدل گیا۔“


آزر نے گہری سانس لی۔


اس کی آنکھوں میں ایک ایسی تھکن تھی جو برسوں کی خاموشی سے پیدا ہوتی ہے۔


”یہ میری زندگی کا ایک ایسا باب ہے جسے میں دوبارہ کھولنا نہیں چاہتا۔“


ماہ نور کی آواز دھیمی پڑ گئی۔


”لیکن شاید وہ باب میری زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔“


آزر نے چونک کر اسے دیکھا۔


”تمہارا مطلب؟“


ماہ نور نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔


”ان کی آنکھیں میری آنکھوں جیسی ہیں۔ ان کے چہرے میں مجھے اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟“


آزر کچھ نہ بولا۔


اس کی خاموشی نے ماہ نور کے دل میں خوف پیدا کر دیا۔


وہ ابھی اسی کمرے میں کھڑے تھے کہ باہر سے تیز ہوا کا جھونکا آیا۔ کھڑکی کے پٹ زور سے بجے اور میز پر پڑے چند پرانے کاغذ زمین پر بکھر گئے۔


ماہ نور انہیں سمیٹنے کے لیے جھکی تو اس کی نظر ایک پرانے لفافے پر پڑی۔


لفافے پر کسی عورت کی لکھائی میں چند الفاظ درج تھے:


”میری بیٹی ماہ نور کے نام…“


ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔


اس نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ اٹھایا۔


”آزر… یہ دیکھیں۔“


آزر نے جیسے ہی لفافے پر لکھا نام دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔


”اسے نیچے رکھ دو۔“


”اس پر میرا نام لکھا ہے!“


”ماہ نور، میری بات سنو۔“


”نہیں! آج میں اپنی بات سنوں گی۔“


اس نے لفافہ کھولا۔


اندر ایک پرانا خط تھا، جس کے کاغذ پر وقت کے زرد نشان پڑ چکے تھے۔ ماہ نور نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے پڑھنا شروع کیا۔

”میری پیاری بیٹی ماہ نور،


اگر کبھی یہ خط تمہارے ہاتھوں میں آئے تو سمجھ لینا کہ میں تم سے دور ضرور ہوں، مگر تمہیں کبھی بھولی نہیں۔


تمہاری زندگی میں کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو تمہیں سچ سے دور رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ممکن ہے وہ تم سے محبت بھی کرتے ہوں، لیکن ہر محبت کرنے والا انسان پوری حقیقت نہیں بتاتا۔


تمہیں اپنے دل پر بھروسا کرنا ہوگا، مگر صرف دل کی سن کر فیصلے مت کرنا۔


اور سب سے بڑھ کر…


اگر کبھی تمہاری ملاقات سردار خاندان کے کسی ایسے شخص سے ہو جو اپنی آنکھوں میں ایک پرانا درد چھپائے ہوئے ہو، تو اس سے ایک سوال ضرور پوچھنا:


اس رات دروازہ کس نے بند کیا تھا؟


تمہاری ماں۔“


خط کے آخری الفاظ پڑھتے ہی ماہ نور کے ہاتھ کانپنے لگے۔


اس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔


آزر کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔


”اس رات کون سا دروازہ بند ہوا تھا؟“ ماہ نور نے پوچھا۔


آزر خاموش رہا۔


”آپ جانتے ہیں نا؟“


اس نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔


ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔


”آپ جانتے ہیں! اسی لیے آپ مجھے یہاں لائے ہیں۔ آپ چاہتے تھے کہ میں یہ خط نہ دیکھوں، ہے نا؟“


آزر نے ایک قدم آگے بڑھایا۔


”میں تمہیں تکلیف سے بچانا چاہتا تھا۔“


”لیکن آپ نے مجھے اندھیرے میں رکھا!“


”کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس سچ کے بعد تمہاری زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔“


ماہ نور نے خط اپنے سینے سے لگا لیا۔


”میری زندگی پہلے ہی بدل چکی ہے، آزر۔ جس دن میں اس حویلی میں آئی تھی، اسی دن سے میں سوالوں کے درمیان جی رہی ہوں۔ اب مجھے سچ جاننا ہے، چاہے وہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔“


آزر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔


وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔


پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا:


”اس خط میں جس رات کا ذکر ہے… اس رات میری زندگی سے بھی کوئی ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔“


ماہ نور کا دل بیٹھ گیا۔


”کون؟“


آزر نے جواب دینے کے بجائے اپنی مٹھی بند کر لی۔


”ابھی نہیں۔“


ماہ نور نے دکھ سے مسکراتے ہوئے کہا:


”آپ کے پاس ہر بات کے لیے یہی دو لفظ ہیں، آزر… ابھی نہیں۔ لیکن ایک دن ایسا آئے گا جب آپ کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔“


جب وہ پرانی حویلی سے باہر نکلے تو آسمان پر سیاہ بادل چھا چکے تھے۔


چند ہی لمحوں میں بارش شروع ہو گئی۔ ٹھنڈی بوندیں پہاڑوں، درختوں اور پتھریلے راستوں پر گرنے لگیں۔


ماہ نور گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اس کا پاؤں پھسل گیا۔


”ماہ نور!“


آزر نے فوراً اس کا بازو تھام لیا۔


وہ اس کے قریب آ گری۔ چند لمحوں کے لیے دونوں ایک دوسرے کے سامنے بالکل خاموش کھڑے رہے۔


بارش ماہ نور کے چہرے پر گر رہی تھی اور اس کے بالوں کی چند لٹیں رخساروں سے چپک گئی تھیں۔


آزر نے بےاختیار ہاتھ بڑھایا، جیسے اس کے چہرے سے وہ لٹ ہٹانا چاہتا ہو، مگر پھر اپنا ہاتھ روک لیا۔


ماہ نور نے اس کی طرف دیکھا۔


”آپ مجھ سے اتنی دور کیوں رہتے ہیں؟“


آزر کی آنکھوں میں ایک دردناک چمک ابھری۔


”کیونکہ کبھی کبھی کسی کے قریب آنا، اسے کھونے کے خوف سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔“


ماہ نور کی سانس دھیمی پڑ گئی۔


”اور اگر وہ شخص آپ سے دور نہ جانا چاہتا ہو تو؟“


آزر نے اس کا بازو آہستہ سے چھوڑ دیا۔


”تب بھی ہر محبت کو منزل نہیں ملتی، ماہ نور۔“


”آپ نے ابھی محبت کا نام لیا ہے، آزر۔“


وہ چونک گیا۔


ماہ نور کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر اس بار وہ نظریں نہیں جھکا رہی تھی۔


”آپ کہتے ہیں کہ میں آپ کی ذمہ داری ہوں۔ آپ میری حفاظت کرتے ہیں، میری تکلیف دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں، مگر جب میں آپ سے ایک قدم قریب آنے کی کوشش کرتی ہوں تو آپ خود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ آخر کیوں؟“


آزر نے بارش میں بھیگی ہوئی سڑک کی طرف دیکھا۔


”کیونکہ تم نہیں جانتیں کہ تم کس خاندان کی دہلیز پر کھڑی ہو۔“


”تو مجھے بتا دیں!“


”کچھ رشتے انسان کی مرضی سے نہیں بنتے، اور کچھ رشتوں کا بوجھ محبت سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے۔“


ماہ نور کے دل میں ایک انجانا خوف اتر آیا۔


”کیا آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں؟“


آزر نے اس کی طرف دیکھا۔


اس کی آنکھوں میں وہی خاموش درد تھا، مگر آج اس درد کے ساتھ بےبسی بھی شامل تھی۔


”ہاں، ماہ نور۔ میں تم سے بہت کچھ چھپا رہا ہوں۔ لیکن ایک بات سچ ہے…“


وہ رک گیا۔


ماہ نور نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا:


”کیا؟“


آزر نے نظریں اس کے چہرے پر جما دیں۔


”اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا۔“


ماہ نور کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔


وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔ واپسی کا پورا سفر خاموشی میں گزرا، مگر اس خاموشی میں اب پہلے سے کہیں زیادہ سوال موجود تھے۔

شام تک بارش رک چکی تھی۔

ماہ نور اپنے کمرے میں بیٹھی خط دوبارہ پڑھ رہی تھی۔ اس کی ماں کے الفاظ بار بار اس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔


اس رات دروازہ کس نے بند کیا تھا؟


اس نے خط تہہ کیا اور اپنی دراز میں رکھنے لگی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔


”کون؟“


”بی بی جی، آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔“


ماہ نور نے حیرت سے دروازہ کھولا۔


”مجھ سے؟ کون؟“


ملازمہ نے دھیمی آواز میں کہا:


”ایک عورت ہیں۔ کہتی ہیں کہ آپ کی والدہ کو جانتی تھیں۔“


ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔


”وہ کہاں ہیں؟“


”نیچے مہمان خانے میں۔“


ماہ نور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی۔ مہمان خانے میں ایک درمیانی عمر کی عورت بیٹھی تھی۔ اس نے گہرے رنگ کی شال اوڑھ رکھی تھی اور اس کے چہرے پر سفر کی تھکن نمایاں تھی۔


ماہ نور کو دیکھتے ہی وہ عورت کھڑی ہو گئی۔


چند لمحوں تک وہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی، پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔


”تم بالکل اپنی ماں جیسی ہو۔“


ماہ نور کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔


”آپ میری امی کو جانتی تھیں؟“


عورت نے سر ہلایا۔


”میں انہیں بہت اچھی طرح جانتی تھی۔ اور میں تمہیں ایک ایسی بات بتانے آئی ہوں جو تم سے برسوں چھپائی گئی ہے۔“


اسی وقت دروازے پر قدموں کی آواز گونجی۔


آزر شاہ اندر داخل ہوا۔


عورت نے اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر غصہ ابھر آیا۔


”تم نے اسے اب تک کچھ نہیں بتایا؟“


آزر کی آنکھیں سرد ہو گئیں۔


”آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔“


”مجھے آنا پڑا، سردار صاحب! کیونکہ تمہاری خاموشی نے اس لڑکی کی زندگی کو سوال بنا دیا ہے۔“


ماہ نور دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔


”آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟“


عورت نے ماہ نور کی طرف رخ کیا۔


”بیٹی، تمہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ تمہاری پیدائش سے پہلے کیا ہوا تھا، تمہاری ماں نے تمہیں کس سے بچانے کی کوشش کی تھی، اور اس رات شاہ حویلی کے بند دروازے کے پیچھے کون سا فیصلہ کیا گیا تھا۔“


آزر نے سخت لہجے میں کہا:


”بس کریں!“


عورت نے پہلی بار اس کی بات کو نظرانداز کر دیا۔


”نہیں، آزر شاہ! آج یہ سب سنے گی۔ چاہے تمہیں پسند ہو یا نہ ہو۔“


ماہ نور کی آنکھوں میں خوف اور امید دونوں اتر آئے۔


”مجھے سب بتا دیں، براہِ کرم۔“


عورت نے گہری سانس لی۔


”تمہاری ماں نے اس رات کسی سے وعدہ لیا تھا۔ ایک ایسا وعدہ جس نے دو خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ اور آزر…“


وہ رک گئی۔


آزر کا چہرہ سخت ہو گیا۔


عورت نے ماہ نور کی طرف دیکھ کر آخری جملہ کہا:


”آزر شاہ اس وعدے کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔“


ماہ نور نے آزر کی طرف دیکھا۔


اس کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا:


آخر وہ کون سا راز تھا جس کی حفاظت کے لیے آزر شاہ اپنی خوشی، اپنی محبت، حتیٰ کہ اپنی زندگی بھی قربان کرنے کو تیار تھا؟


آزر نے نظریں جھکا لیں۔


اور اس لمحے ماہ نور کو محسوس ہوا کہ ان دونوں کے درمیان صرف ایک راز نہیں، بلکہ ایک پوری تاریخ کھڑی ہے۔


ایسی تاریخ جس کے صفحات ابھی کھلنے باقی تھے۔


جاری ہے… ❤️


---


اگلی قسط میں


کیا ماہ نور کو اپنی ماں کے ماضی کا سچ معلوم ہو سکے گا؟ اس رات دروازہ کس نے بند کیا تھا؟ اور آزر شاہ آخر کس وعدے کی سزا آج تک بھگت رہا ہے؟


پہاڑوں کی دلہن — قسط چہارم میں ان رازوں کی پہلی گرہ کھلے گی۔

❤️ پہاڑوں کی دلہن ❤️

📖 قسط پنجم پڑھیں

وہ چہرہ جو اپنا تھا

Hearts Where Stay — Every Heart Has a Story

♛
Hearts Where Stay
Every Heart Has a Story ♥

Welcome to Our Royal Story Palace

ہر دل کی اپنی کہانی، ہر کہانی میں محبت

⌂ VISIT HOMEPAGE ♥

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے